آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 653
روحانی خزائن جلد ۵ ۶۵۱ آئینہ کمالات اسلام میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا ﴿۳﴾ اور خارق عادت اور اپنے اندر الہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیشگوئی میں کا ذب نکلا تو ہر یک سزا کے بھگتنے کے لئے میں طیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلہ میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے زیادہ اس سے کیا لکھوں ۔ واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصور سے بھی بدن کانپتا ہے ۔ اس کی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور توہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سنے اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔ با این همه شوخی و خیرگی یہ شخص سخت جاہل ہے۔ عربی سے ذرہ مس نہیں بلکہ دقیق اردو لکھنے کا بھی مادہ نہیں اور یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ اس عاجز نے خاص اسی مطلب کیلئے دعا کی جس کا یہ جواب ملا ۔ اور یہ پیشگوئی مسلمانوں کیلئے بھی نشان ہے ۔ کاش وہ حقیقت کو سمجھتے اور ان کے دل نرم ہوتے ۔ اب میں اسی خدا عز وجل کے نام پر ختم کرتا ہوں جس کے نام سے شروع کیا تھا ۔ والحمد لله والصلوة والسلام على رسوله محمد المصطفى افضل الرسل و خير الورى سيدنا و سيد كل ما في الارض والسماء۔ خاکسار مرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپوره ( ۲۰ فروری ۱۸۹۳ء) اب آریوں کو چاہیے کہ سب مل کر دعا کریں کہ یہ عذاب ان کے اس وکیل سے ٹل جائے ۔ منہ