آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 645
روحانی خزائن جلد ۵ ۶۴۳ آئینہ کمالات اسلام کر دکھایا کہ کوئی مقابل آنے جو گا نہیں رہا۔ اکثر نیچریوں کو جو مولوی صاحبان سے ہرگز اصلاح پر نہیں آ سکے تو بہ کرائی اور پنجاب سے نیچریت کا اثر بہت کم کر دیا۔ اب وہی نیچری ہیں جو مسلمان صورت بھی نہیں تھے مرزا صاحب کے ملنے سے مومن سیرت ہو گئے ۔ اہلکاروں ، تھانہ داروں نے رشوتیں لینی چھوڑ دیں ۔ نشہ بازوں نے نشے ترک کر دیئے ۔ کئی لوگوں نے حقہ تک ترک کر دیا۔ مرزا صاحب کے شیعہ کے مریدوں نے تبرا ترک کر دیا۔ صحابہ سے محبت کرنے لگے۔ تعزیہ داری، مرثیہ خوانی موقوف کردی۔ بعض پیر زادے جو مولوی محمد حسین بٹالوی بلکہ محمد اسماعیل شہید کو بھی کافر سمجھتے تھے مرزا صاحب کے معتقد ہونے کے بعد مولانا اسماعیل شہید کو اپنا پیشوا اور بزرگ سمجھنے لگے۔ اگر یہ تاثیریں دجالین - کذابین میں ہوتی ہیں اور نائبین رسول مقبول نیک تاثیروں سے محروم ہیں تو بصد خوشی ہمیں دجالی ہونا منظور ہے۔ پھلوں ہی سے تو درخت پہچانا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کو بھی لوگوں نے صفات سے پہچانا۔ ورنہ اس کی ذات کسی کو نظر نہیں آتی ۔ کسی تندرست ہٹے کٹے کا نام اگر بیمار رکھ دیں تو واقعی وہ بیمار نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن پاکباز ہے اور جس کے دل میں اللہ اور رسول کی محبت ہے اس کو کوئی منافق ، کافر ، دجال وغیرہ لقب دے تو کیا حرج ہے۔ سفید کسی کے کالا کہنے سے کالا نہیں ہو سکتا۔ اور چمگادڑ کی دشمنی سے آفتاب لائق مذمت نہیں ۔ یزیدی عملداری سے حسینی گروہ اگر چہ تکالیف تو پا سکتا ہے مگر نا بود نہیں ہو سکتا۔ رفتہ رفتہ تکالیف برداشت کر کے ترقی کرے گا اور کرتا جاتا ہے۔ یعنی مولویوں کے سد راہ ہونے سے مرزا صاحب کا گروہ مٹ نہیں سکتا بلکہ ایسا حال ہے جیسا دریا میں بندھ باندھنے سے دریا رک نہیں سکتا لیکن چند روز کا معلوم ہوتا ہے آخر بند ٹوٹے گا اور نہایت زور سے دریا بہہ نکلے گا۔ اور آس پاس کے مخالفین کی بستیوں کو بھی بہالے جاوے گا۔ آندھی اور ابر سورج کو چھپا نہیں سکتے ۔ خود ہی چند روز میں گم ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح چند روز میں یہ غل غپاڑہ فرو ہو جائے گا اور مرزا صاحب کی صداقت کا سورج چمکتا ہوا نکل آوے گا۔ پھر نیک بخت تو افسوس کر کے مرزا صاحب سے لے یعنی چند مرید مرزا صاحب کے ایسے بھی ہیں جو پہلے شیعہ مذہب رکھتے تھے ۔