آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 643
روحانی خزائن جلد ۵ ۶۱ آئینہ کمالات اسلام منظور نہ کرے۔ اور اگر منظور کرے تو ناراض ہو کر اور شاید غیبت میں لوگوں سے گلہ بھی کرے۔ ﴿۵﴾ ع۔ بہیں تفاوت رہ از کجا است تا بکجا۔ یہ نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہر صدی میں ہزاروں اولیاء ( جن پر ان کے زمانہ میں کفر کے فتوے بھی ہوتے رہے ہیں ) گزرے ہیں۔ اور کم و بیش ان کے مرید ان کے فرمانبردار اور جان نثار ہوئے ہیں۔ یہ نتیجہ ہے نیکوں کی خدا کے ساتھ دلی محبت کا۔ مرزا صاحب کو چونکہ سچی محبت اپنے مولا سے ہے اس لئے آسمان سے قبولیت اتری ہے اور رفتہ رفتہ با وجود مولویوں کی سخت مخالفت کے سعید لوگوں کے دلوں میں مرزا صاحب کی الفت ترقی کرتی جارہی ہے (اگر چہ ابو سعید صاحب خفا ہی کیوں نہ ہوں ) اب اس کے مقابل میں مولوی صاحب جو آج ماشاء اللہ آفتاب پنجاب بنے ہوئے ہیں اپنے حال میں غور فرماویں کہ کس قدر سچے محب ان کے ہیں اور ان کے سچے دوستوں کا اندرونی کیا حال ہے۔ شروع شروع میں کہتے ہیں مولوی صاحب کبھی اچھے شخص تھے مگر اب تو انہیں حب جاہ اور علم وفضل کے فخر نے عرش عزت سے خاک مذلت پر گرادیا ۔ انا لله و انا اليه راجعون۔ اب مولوی صاحب غور فرماویں کہ یہ کیا پتھر پڑ گئے کہ مولوی اور خصوصاً مولوی محمد حسین صاحب سرآمد علماء پنجاب (بزعم خود) سے لوگوں کو اس قدر نفرت کہ جس کے باعث مولوی صاحب کو لا ہور چھوڑنا پڑا۔ موحدین کی جامع مسجد میں اگر اتفا قالا ہور میں تشریف لے جاویں تو مارے ضد اور شرم کے داخل نہیں ہو سکتے ۔ اور مرزا صاحب کے پاس ( جو بزعم مولوی صاحب کافر بلکہ اکفر اور دجال ہیں ) ۔ گھر بیٹھے لاہور، امرتسر ، پشاور، کشمیر، جموں، سیالکوٹ ، کپورتھلہ ، لدھیانہ، بمبئی ، ممالک شمال و مغرب، اودھ، مکہ معظمہ وغیرہ بلاد سے لوگ گھر سے بوریا بدھنا باندھے چلے آتے ہیں۔ پھر آنے والے بدعتی نہیں ۔ مشرک نہیں ۔ جاہل نہیں ۔ کنگال نہیں بلکہ موحد ۔ اہلحدیث ۔ مولوی مفتی ۔ پیرزادے۔ شریف۔امیر ۔ نواب ۔ وکیل ۔اب ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ باوجود مولوی محمد حسین صاحب کے گرانے کے اور اکثر مولویوں سے کفر کے فتوے پر مہریں لگوانے کے اللہ جل شانہ نے مرزا صاحب کو کس قدر چڑھایا اور کس قدر