آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 608 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 608

روحانی خزائن جلد ۵ ٦٠٦ آئینہ کمالات اسلام اب ظاہر کی تھی اور کہاتھا کہ یہ بہتر ہے اب کے دسمبر ۱۸۹۲ء کو اس بناء پر اس عاجز نے ایک خط بطور اشتہار کے تمام مخلصوں کی خدمت میں بھیجا جو ریاض ہند پر لیس قادیان میں چھپا تھا جس کے مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض یہ بھی ہے کہ تاہر یک مخلص کو با لمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات دینی وسیع ہوں اور معرفت ترقی پذیر ہو۔ اب سنا گیا ہے کہ اس کارروائی کو بدعت بلکہ معصیت ثابت کرنے کیلئے ایک بزرگ نے ہمت کر کے ایک مولوی صاحب کی خدمت میں جو رحیم بخش نام رکھتے ہیں اور لاہور میں چینیا نوالی مسجد کے امام ہیں ایک استفتا پیش کیا جس کا یہ مطلب تھا کہ ایسے جلسہ پر روز معین پر دور سے سفر کر کے جانے میں کیا حکم ہے اور ایسے جلسہ کیلئے اگر کوئی مکان بطور خانقاہ کے تعمیر کیا جائے تو ایسے مدد دینے والے کی نسبت کیا حکم ہے استفتا میں یہ آخری خبر اس لئے بڑھائی گئی جو مستفتی صاحب نے کسی سے سنا ہو گا جو جبی فی اللہ اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب نے اس مجمع مسلمانوں کیلئے اپنے صرف سے جو غالبا سات سو روپیہ یا کچھ اس سے زیادہ ہوگا قادیان میں ایک مکان بنوایا جس کی امداد خرچ میں اخویم حکیم فضل دین صاحب بھیروی نے بھی تین چار سور و پیہ دیا ہے۔ اس استفتا کے جواب میں میاں رحیم بخش صاحب نے ایک طول طویل عبارت ایک غیر متعلق حدیث شد رحال کے حوالہ سے لکھی ہے جس کے مختصر الفاظ یہ ہیں کہ ایسے جلسہ پر جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور ایسے جلسوں کا تجویز کرنا محدثات میں سے ہے جس کیلئے کتاب اور سنت میں کوئی شہادت نہیں۔ اور جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے۔ اب منصف مزاج لوگ ایمانا کہیں کہ ایسے مولویوں اور مفتیوں کا اسلام میں موجود ہونا قیامت کی نشانی ہے یا نہیں۔ اے بھلے مانس کیا تجھے خبر نہیں کہ علم دین کیلئے سفر کرنے کے بارے میں صرف اجازت ہی نہیں بلکہ قرآن اور شارع علیہ السلام نے اس کو فرض ٹھہرا دیا ہے جس کا عمد ا تارک مرتکب کبیرہ اور عمداً انکار پر اصرار بعض صورتوں میں کفر کیا تجھے معلوم نہیں کہ نہایت تاکید سے فرمایا گیا ہے کہ طلب العلم فريضة على كل مسلم و مسلمة اورفرمایا گیا ہے کہ اطلبوا العلم و لو كان في الصين یعنے علم طلب کرنا ہر ایک مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اور علم کو طلب کر وا گر چہ چین میں جانا پڑے۔ اب سوچو کہ جس حالت میں یہ عاجزا اپنے صریح صریح اور ظاہر ظاہر الفاظ سے اشتہار میں لکھ چکا کہ یہ سفر ہر یک مخلص کا طلب علم کی نیت سے ہوگا پھر یہ فتوی دینا کہ جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے کس قدر دیانت اور امانت اور انصاف اور تقویٰ اور طہارت سے دور ہے۔ رہی یہ بات کہ ایک تاریخ مقررہ پر تمام بھائیوں کا جمع ہونا تو یہ صرف انتظام ہے اور انتظام سے کوئی کام کرنا اسلام میں کوئی مذموم امر اور بدعت نہیں انما الاعمال بالنیات بدظنی کے مادہ فاسدہ کوذرا دور کر کے دیکھو کہ ایک تاریخ پر آنے میں کونسی بدعت ہے جبکہ ۲۷ دسمبر کو ہر یک مخلص بآسانی ہمیں مل سکتا ہے اور اس کے ضمن میں ان کی باہم ملاقات بھی ہو جاتی ہے تو اس سہل طریق سے فائدہ اٹھانا کیوں حرام ہے تعجب کہ مولوی صاحب نے اس عاجز کا نام مردود تو رکھ دیا مگر آپ کو وہ حدیثیں یاد نہ رہیں جن میں طلب علم کیلئے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی نسبت ترغیب دی ہے اور جن میں ایک بھائی مسلمان کی ملاقات کیلئے جانا موجب خوشنودی خدائے عز وجل قرار دیا ہے اور جن میں سفر کر کے زیارت صالحین کرنا موجب مغفرت اور کفارہ گناہاں لکھا ہے۔ اور یادر ہے کہ یہ سراسر جہالت ہے کہ شد رحال کی حدیث کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ بجز قصد خانہ کعبہ یا مسجد نبوی یا بیت المقدس اور تمام سفر قطعی حرام ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ تمام