آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 32

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۲ آئینہ کمالات اسلام ۳۲) فرقہ کو دین سے خارج کر رہا ہے لیکن اگر افسوس ہے تو صرف اس قدر کہ ایسے فتوے صرف اجتہادی غلطی کی ہی وجہ سے قابل الزام نہیں بلکہ بات بات میں خلاف امانت اور ور تقویٰ عمل میں آتا ہے اور نفسانی حسدوں کو در پردہ مد نظر رکھ کر دینی مسائل کے پیرا یہ میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ کیا تعجب کا مقام نہیں کہ ایسے نازک مسئلہ میں کا فر قرار دینے میں اس قدر منہ زوری دکھلائی جائے کہ ایک شخص بار بار خود اپنے اسلام کا اقرار کرتا ہے اور ان تہمتوں سے اپنی بریت ظاہر کر رہا ہے جو موجب کفر ٹھہرائی گئی ہیں مگر پھر بھی اس کو کافر ٹھہرایا جاتا ہے اور لوگوں کو تلقین کی جاتی ہے کہ باوجود اقرار کلمہ لا الهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ اور با وجود تو حید اور ماننے عقائد ضرور یہ اسلام اور پابندی صوم وصلوٰۃ اور اہل قبلہ ہونے کے پھر بھی کافر ہے ۔ اور دیگر مشرکین اور کفار کی طرح ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور کبھی اس سے باہر نہیں ہوگا۔ ایکہ دجالم بچشمت نیز ضال چوں نترسی از خدائے ذوالجلال مومنی را نام کافر مے نہی کا فرم گر مومنی با این خیال اور عموماً تمام علمائے مکفرین پر یہ افسوس ہے کہ انہوں نے بلاتفتیش و تحقیق بٹالوی صاحب کے کفرنامہ پر مہریں لگا دیں اور اول سے آخر تک میری کتا بیں نہ دیکھیں اور بذریعہ خط و کتابت مجھ سے کچھ دریافت نہ کیا ۔ اگر وہ نیک نیتی سے مہریں لگاتے تو ان کا نور قلب ضرور ان کو اس بات کی طرف مضطر کرتا کہ پہلے مجھ سے دریافت کرتے اور میرے الفاظ کے حل معانی بھی مجھ سے ہی چاہتے ۔ پھر اگر بعد تحقیق وہ کلمات در حقیقت کفر کے کلمات ہی ثابت ہوتے تو ایک بھائی کی نسبت افسوس ناک دل کے ساتھ کفر کی شہادت لکھ دیتے اگر وہ ایسا کرتے اور عجلت سے