آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 353

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۵۳ آئینہ کمالات اسلام بات نبی کی جو نبی کی توجہ تام سے اور اس کے خیال کی پوری مصروفیت سے اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ ۳۵۳ بلاشبہ وحی ہوتی ہے تمام احادیث اسی درجہ کی وحی میں داخل ہیں جن کو غیر متلوحی کہتے ہیں۔ اب اللہ جل شانہ آیت موصوفہ ممدوحہ میں فرماتا ہے کہ اس ادنی درجہ کی وحی میں جو حدیث کہلاتی ہے بعض صورتوں میں شیطان کا دخل بھی ہو جاتا ہے اور وہ اس وقت کہ جب نبی کا نفس ایک بات کیلئے تمنا کرتا ہے تو اس کا اجتہاد غلطی کر جاتا ہے اور نبی کی اجتہادی غلطی بھی در حقیقت وحی کی غلطی ہے کیونکہ نبی تو کسی حالت میں وحی سے سے خالی نہیں ہوتا وہ اپنے نفس ۔ ہ اپنے نفس سے کھویا جاتا۔ سویا جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک آلہ کی طرح ہوتا ہے پس چونکہ ہر یک بات جو اس کے منہ سے نکلتی ہے وحی ہے۔ اس لئے جب اس کے اجتہاد میں غلطی ہوگئی تو وحی کی غلطی کہلائے گی نہ اجتہاد کی غلطی ۔ اب خدائے تعالیٰ اسی کا جواب قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ بھی نبی کی اس قسم کی وحی جس کو دوسرے لفظوں میں اجتہاد بھی کہتے ہیں میں شیطانی سے مخلوط ہو جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب نبی کوئی تمنا کرتا ہے کہ یوں ہو جائے تب ایسا ہی خیال اس کے دل میں گزرتا ہے جس پر نبی مستقل رائے قائم کرنے کیلئے ارادہ کر لیتا ہے تب فی الفور وحی اکبر جو کلام الہی اور وحی متلو اور میمن ہے نبی کو اس غلطی پر متنبہ کر دیتی ہے اور وحی متلو شیطان کے دخل سے بکلی منزہ ہوتی ہے کیونکہ وہ ایک سخت ہیبت اور شوکت اور روشنی اپنے اندر رکھتی ہے اور قول تقیل اور شدید النزول بھی ہے اور اس کی تیز شعاعیں شیطان کو جلاتی ہیں اس لئے شیطان اس کے نام سے دور بھاگتا ہے اور نزدیک نہیں آ سکتا اور نیز ملائک کی کامل محافظت اس کے اردگرد ہوتی ہے لیکن وحی غیر متلوجس میں نبی کا اجتہاد بھی داخل ہے یہ قوت نہیں رکھتی۔ اس لئے تمنا کے وقت جو بھی شاذ و نا دراجتہاد کے سلسلہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔ شیطان نبی یا رسول کے اجتہاد میں دخل دیتا ہے پھر وحی متلو اس دخل کو اٹھا دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے بعض اجتہادات میں غلطی بھی ہوگئی ہے جو بعد میں رفع کی گئی۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ کا یہ قانون قدرت ہے کہ نبی بلکہ رسول کی ایک قسم کی وجی میں بھی جو وحی غیر متلو ہے شیطان کا دخل بموجب قرآن کریم کی تصریح کے ہو سکتا ہے تو پھر کسی دوسرے شخص کو کب یہ حق پہنچتا ہے کہ اس قانون قدرت کی تبدیل کی درخواست کرے ماسوا اس کے صفائی اور راستی خواب کی اپنی پاک باطنی اور سچائی اور طہارت پر موقوف ہے۔ یہی قدیم قانون قدرت ہے جو اس کے رسول کریم کی معرفت ہم تک پہنچا ہے کہ سچی خوابوں کے لئے ضرور ہے کہ بیداری کی حالت میں انسان ہمیشہ سچا اور خدا تعالی کیلئے راستباز ہو اور کچھ شک نہیں کہ جو شخص اس قانون پر چلے گا اور اپنے دل کو