آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 349

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۴۹ آئینہ کمالات اسلام کے اُن کے دلوں پر رعب ہیں اور وہ اپنے ظلم اور زیادتی کو خوب جانتے ہیں وہ ہرگز مباہلہ بھی نہیں کریں ﴿۳۴۹ گے مگر میری طرف سے عنقریب کتاب دافع الوساوس میں ان کے نام اشتہار جاری ہو جائیں گے۔ رہے احاد الناس کہ جو امام اور فضلا علم کے نہیں ہیں اور نہ ان کا فتوی ہے ان کیلئے مجھے یہ حکم ہے کہ اگر وہ خوارق دیکھنا چاہتے ہیں تو صحبت میں رہیں خدائے تعالی غنی بے نیاز ہے جب تک کسی میں تذلیل اور انکسار نہیں دیکھتا اس کی طرف توجہ نہیں فرماتا لیکن وہ اس عاجز کو ضائع نہیں کرے گا اور اپنی حجت دنیا سے پر پوری کر دے گا اور کچھ زیادہ دیر نہیں ہوگی کہ وہ اپنے نشان دکھاوے گا لیکن مبارک وہ جو نشانوں پہلے قبول کر گئے وہ خدائے تعالیٰ کے پیارے بندے ہیں اور وہ صادق ہیں جن میں دغا نہیں۔ نشانوں کے مانگنے والے حسرت سے اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے کہ ہم کو رضائے الہی اور اس کی خوشنودی حاصل نہ ہوئی جو ان بزرگ لوگوں کو ہوئی جنہوں نے قرائن سے قبول کیا اور کوئی نشان نہیں مانگا۔ سو یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اس سلسلہ کو بے ثبوت نہیں چھوڑے گا۔ وہ خود فرماتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ جن لوگوں نے انکار کیا اور جو انکار کیلئے مستعد ہیں ان کیلئے ذلت اور خواری مقدر ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر یہ انسان کا افترا ہوتا تو کب کا ضائع ہو جاتا کیونکہ خدا تعالیٰ مفتری کا ایسا دشمن ہے کہ دنیا میں ایسا کسی کا دشمن نہیں وہ بیوقوف یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیا یہ استقامت اور جرات کسی کذاب میں ہو سکتی ہے۔ وہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ جو شخص ایک غیبی پناہ سے بو نص ایک غیبی پناہ سے بول رہا ہے وہی اس بات ۔ ہا ہے وہی اس بات سے مخصوص ہے کہ اس کے کلام میں شوکت اور ہیبت ہو۔ اور یہ اس کا جگر اور دل ہوتا ہے کہ ایک فرد تمام جہان کا مقابلہ کرنے کیلئے طیار ہو جائے۔ یقیناً منتظر رہو کہ وہ دن آتے ہیں بلکہ نزدیک ہیں کہ دشمن روسیاہ ہوگا اور دوست نہایت ہی بشاش ہوں گے۔ کون ہے دوست؟ وہی جس نے نشان دیکھنے سے پہلے مجھے قبول کیا اور جس نے اپنی جان اور مال اور عزت کو ایسا فدا کر دیا ہے کہ گویا اس نے ہزار ہا نشان دیکھ لئے ہیں۔ سو یہی میری جماعت ہے اور میرے ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا پایا اور میری مدد کی۔ اور مجھے غمگین دیکھا اور میرے غم خوار ہوئے ۔ اور ناشناسا ہو کر پھر آشناؤں کا سا ادب بجالائے خدا تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو۔ اگر نشانوں کے دیکھنے کے بعد کوئی کھلی صداقت کو مان لے گا تو مجھے کیا اور اس کو اجر کیا اور حضرت عزت میں اس کی عزت کیا۔ مجھے در حقیقت انہوں نے ہی قبول کیا ہے جنہوں نے دقیق نظر سے مجھ کو دیکھا اور فراست سے میری