آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 340
۳۴۰ روحانی خزائن جلد ۵ ۳۴۰ آئینہ کمالات اسلام مسیح موعود کا دعوی اگر اپنے ساتھ ایسے لوازم رکھتا جن سے شریعت کے احکام اور عقائد پر کچھ مخالفانہ اثر پہنچتا تو بے شک ایک ہولناک بات تھی لیکن دیکھنا چاہیئے کہ میں نے اس دعوٹی کے ساتھ کسی اسلامی حقیقت کو منقلب کر دیا ہے۔ کون سے احکام اسلام میں سے ایک ذرہ بھی کم یا زیادہ کر دیا ہے۔ ہاں ایک پیشگوئی کے وہ معنے کئے گئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے وقت پر مجھ پر کھولے ہیں اور قرآن کریم ان معنوں کی صحت کیلئے گواہ ہے اور احادیث صحیحہ بھی ان کی شہادت دیتی ہیں۔ پھر نہ معلوم کہ اس قدر کیوں شور و غوغا ہے ! ہاں طالب حق ایک سوال بھی اس جگہ کر سکتا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کا دعوی تسلیم کرنے کیلئے کون سے قرائن موجود ہیں کیونکہ کسی مدعی کی صداقت ماننے کیلئے قرائن تو چاہیے خصوصاً آج کل کے زمانہ میں جو مکر اور فریب اور بد دیانتی سے بھرا ہوا ہے اور دعاوی باطلہ کا بازار گرم ہے۔ اس سوال کے جواب میں مجھے یہ کہنا کافی ہے کہ مندرجہ ذیل امور طالب حق کیلئے بطور علامات اور قرائن کے ہیں ۔ (۱) اول وہ پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تواتر معنوی تک پہنچ گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر یک صدی کے سر پر وہ ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو دین کو پھر تازہ کر دے گا اور اس کی کمزوریوں کو دور کر کے پھر اپنی اصلی طاقت اور قوت پر اس کو لے آوے گا۔ اس پیشگوئی کی رو سے ضرور تھا کہ کوئی شخص اس چودھویں صدی پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا اور موجودہ خرابیوں کی اصلاح کیلئے پیش قدمی دکھلاتا۔ سو یہ عاجز عین وقت پر مامور ہوا اس سے پہلے صدہا اولیاء نے اپنے الہام سے گواہی دی تھی کہ چودھویں صدی کا مجد دمسیح موعود ہوگا اور احادیث صحیحہ نبویہ پکار پکار کر کہتی ہیں کہ تیرھویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔ پس کیا اس عاجز کا یہ دعویٰ اس وقت عین اپنے محل اور اپنے وقت پر نہیں ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ فرمودہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم خطا جاوے۔ میں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اگر فرض کیا جاوے کہ چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود پیدا نہیں ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی پیشگوئیاں خطا جاتی ہیں اور صدہا بزرگوار صاحب الہام جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ (۲) اس بات کو بھی سوچنا چاہیے کہ جب علماء سے یہ سوال کیا جائے کہ چودھویں صدی کا مجدد ہونے کے لئے بجز اس احقر کے اور کس نے دعوی کیا ہے اور کس نے منجانب اللہ آنے کی خبر دی ہے اور مہم ہونے اور مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو اس کے جواب میں وہ بالکل خاموش ہیں اور