آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 316

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۱۶ آئینہ کمالات اسلام ۳۱۲ آپ کا عجز اظہار نشان آسمانی سے لوگوں پر ظاہر کروں اور مسلمانوں پر آپ کا جھوٹ اور فریب کھولوں کیونکہ میرے خیال میں آپ کو مسمریزم وغیرہ میں دخل نہیں۔ اور آپ کے پاس جو ہتھیار چٹو و دام تزویر ہے وہ صرف زبان کی چالا کی اور فقرہ بندی ہے۔ لیکن مجھے اس صورت میں قادیان پہنچنے میں یہ اندیشہ ہے کہ آپ میری جان کو نقصان پہنچانے میں کوشش کریں گے اور اس سے اپنے الہام کو کہ یہ شخص باون برس کا ہو کر فوت ہو جاوے گا۔ جس کو آپ کے حواری اور دوست میاں ؟ ریشم فروش اور میاں رجب الدین شالی کوب لا ہور وغیرہ آپس میں پھیلا رہے ہیں سچا کر دکھا ئیں گے۔ ( گو واقع میں کبھی سچا نہیں ہو سکتا کیونکہ میں باون برس کی عمر پوری کر چکا ہوں ۔ ۱۷ محرم ۲۵۶ ھ میری پیدائش ہے اور اب ۱۳۱۰ اھ گزر رہا ہے) اور کم سے کم یہ کہ میری آبروریزی کی تدبیر کریں گے۔ پس اگر آپ میری اس غرض کو پیش نظر رکھ کر مجھے اپنے پاس بلانا چاہتے ہیں تو میرے اس اندیشہ کو ایک باضابطہ تحریر سے جو عدالت میں رجسٹر ڈ ہو ا ٹھا دیں۔ آپ نے اس تحریر ذمہ داری کو منظور کیا تو اس کا مسودہ آپ کے پاس بھیجا جاوے گا۔ اس صورت میں یہ خاکسار قادیان میں حاضر ہوگا اور جو کام آپ کی خدمت گذاری کا یہاں کرتا ہے وہاں بیٹھ کر کرے گا ۔ در صورت عدم منظوری شرط مذکور میں قادیان میں نہیں آ سکتا۔ اس صورت میں جو آپ نے اپنے اور اپنے تابعین کے الہامات و منامات کے جو میری نسبت ہوئے ہیں اجازت چاہی ہے اس سے مجھے تعجب آیا اور یقین ہوا کہ آپ دعوئی الہام میں کذاب ہیں۔ خدا کے الہام کی اشاعت و تبلیغ کے لئے اوروں کی اجازت کے کیا معنی ؟ اول تو جو الہام کسی نبی یا ولی کو کسی شخص کے ڈرانے کے لئے ہوتا ہے اس کی اشاعت و تبلیغ اس الہام کا عین مدعا ہوتا ہے اور اگر آپ کا ملہم آپ کو ایسے الہام کرتا ہے جس کی بٹالوی صاحب کے اس بیان سے ان کی قرآن دانی اور حدیث خوانی خوب ظاہر ہو رہی ہے ان کو معلوم رہے کہ هر یک ملہم من اللہ کو تین قسم کے الہام ہوتے ہیں۔ ایک واجب التبلیغ دوسرے وہ الہام جن کے اظہار اور عدم اظہار میں ملہم لوگ اختیار دیئے جاتے ہیں۔ اگر مصلحت اظہار کی سمجھیں تو اظہار کر دیں ورنہ پوشیدہ رکھیں ۔ تیسری قسم الہام کی وہ ہے جن کے اظہار سے مہم لوگ منع کئے جاتے ہیں۔ یہی تقسیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں موجود ہے سو یہ الہام درمیانی قسم کا الہام تھا جس کا اظہار و عدم اظہار اس عاجز کے اختیار میں دیا گیا تھا اور انبیاء بھی ہر یک بات خدا تعالیٰ سے حل نہیں کرتے بلکہ اس عالم اسباب میں اپنے اجتہاد سے بھی کام لیتے ہیں۔ فتدبر ۔ منه