آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 314
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۱۴ آئینہ کمالات اسلام ۳۱۳ نشان آسمانی دکھانے کیلئے انعام کے وعدہ پر بلاتے ہیں ۔ ہم موافقین کو بلا وعدہ انعام بھی نہیں بلاتے تو آپ ہنس کر چپ ہو گئے پھر جب آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو میں نے اپنا خلاف ظاہر کر کے آپ کے پاس آنا اور دوستانہ پرائیویٹ گفتگو کرنا چاہا تو آپ بلانے کا وعدہ دیتے دیتے کو دیا نہ میں جا براجے اور وہاں جا کر مخاصمانہ بحث کا اکھاڑہ جما کرنا جائز اور بحث کوٹلانے کے شروط سے پناہ گزین ہوئے ۔ پھر جب بمقام لو د یا نہ آپ کے گھر پر پہنچ کر آپ کو گفتگو پر مجبور کیا تو آپ نے اس با امن گفتگو کو نا تمام چھوڑ کر پھر مخاصمانہ اکھاڑہ جمانے کا اہتمام کیا ۔ اور دہلی ، پٹیالہ ، لاہور، سیالکوٹ وغیرہ میں مخاصمانہ بحث کا علم بلند کیا۔ اور پھر بحث سے گریز کر کے انواع اتہام و اکاذیب کا اشتہار کیا اور اسی اثناء میں فیصلہ آسمانی لکھ مارا جس میں کوئی دقیقہ بے رحمی و بد گوئی کا فروگذاشت نہ کیا ۔ اس بے رحمی و نفسانی کارروائیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ پڑ گیا ۔ بھائی بھائی سے اور دوست دوست سے الگ ہو گیا ۔ کیا رحمت و ہمدردی کا یہی اثر ہے ۔ آپ میں رحمت اور ہمدردی کا شمہ اثر بھی ہوتا تو جس وقت میں نے اپنا خلاف آپ کے دعوئی مسیحائی سے ظاہر کیا تھا آپ فوراً مجھے اپنی جگہ بلاتے یا غریب خانہ پر قدم رنجہ فرماتے (جیسا کہ پہلے بھی آپ سے وقوع میں آتا رہا۔ اور کم سے کم تین دفعہ آپ نے غریب خانہ میں قدم رنجہ فرما کر رابطہ اتحاد ظاہر کیا تھا اور اس صورت سے آپ اپنے دعوی جدیدہ کو ثابت کر دکھاتے اب جو آپ نے یہ خط ارسال فرمایا ہے۔ یہ بھی آپ کی خود غرضی اور نیت فساد سے خالی نہیں ۔ اس میں خود غرضی یہ ہے کہ آپ کے مرید آپ کو نیک نیت اور اپنے دعوئی میں ثابت قدم اور مقابلہ مخالفین کیلئے مستعد سمجھیں نیت فساد کی یہ ہے