آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 266

۲۶۶ روحانی خزائن جلد ۵ ۲۶۶ آئینہ کمالات اسلام یہ وہ اجازت مباہلہ ہے جو اس عاجز کو دی گئی ۔ لیکن ساتھ اس کے جو بطور تبشیر کے اور الہامات ہوئے ان میں سے بھی کسی قدر لکھتا ہوں اور وہ یہ ہیں ۔ يوم يجيء الحق ويُكْشَف الصدق و يخسر الخاسرون۔ انت معى و انا معك و لا يعلمها الا المسترشدون نرد اليك الكرة الثانية و نبدلنك من بعد خوفك آمنا ۔ يأتي قمر الانبياء۔ و امرك يتأتى يسر الله وجهك و يُنير برهانک سیولد لک الولد و يُدنى منك الفضل ان | نوری قریب و قالو انى لك هذا قل هو الله عجيب۔ و لا تيئس من روح الله۔ انظر الى يوسف و اقباله۔ قد جاء وقت الفتح والفتح اقرب۔ يخرّون على المساجد ربنا اغفر لنا إنا كنا خاطئين۔ لا تثريب عليكم اليوم کلمہ گویوں اور اپنے جیسے اہل قبلہ کو کافر قرار دیں دجال کہیں اور بے ایمان نام رکھیں اور فتوی لکھیں کہ ان سے ملنا جائز نہیں اور ان کا جنازہ پڑھنا روا نہیں یہ ایسے ہیں اور ویسے ہیں اور کیا کیا ہیں ۔ حاشيه اور اس وقت کے پیر زادے اور گوشہ نشین بھی جو فقرا اور اہل اللہ کہلاتے ہیں کانوں میں روئی دے کر بیٹھے ہوئے ہیں اسلام کو ان کی آنکھوں کے سامنے ایک معصوم بچہ کی طرح ماریں پڑ رہی ہیں اور دشمن گلا گھونٹنے کو طیار ہے لیکن ان سخت دل نام کے فقیروں کو کچھ بھی پروا نہیں ۔ پھر اسلام کس سے مدد چاہے اور کس کو اپنا ہمدرد سمجھے اول تو اسلام کے لئے ان تمام فرقوں سے کچھ خدمت ہوتی ہی نہیں اور اگر شاذ و نادر کسی سے ہو بھی تو وہ ریا اور ملونی سے خالی نہیں پھر اگر اسلام اس وقت غریب نہیں تو پھر کس وقت ہوگا اور اگر یہ مصیبت کے دن نہیں تو پھر اور کب آئیں گے میں خدا تعالیٰ سے یقینی اور قطعی علم پا کر کہتا ہوں کہ یہ وہی سخت بلاؤں کے دن اور وہی دجالیت