آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 239
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۳۹ آئینہ کمالات اسلام ☆ وما ارسلنا من رسول ولا : ، ولا نبي ولا محدث ہے مختصر کر کے قراءت ثانی میں صرف یہ ۲۳۹ الفاظ کافی قرار دیے کہ وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِي اور اس سوال کا جواب کہ جس شخص کو شرف مکالمہ الہیہ کا نصیب ہو وہ کب اور کن حالات میں افاضہ کلام الہی کا زیادہ تر مستحق ہوتا ہے ۔ یہ ہے کہ اکثر شدائد اور مصائب کے نزول کے وقت اولیاء اللہ پر کلام الہی نازل ہوتا ہے تا ان کی تسلی اور تقویت کا موجب ہو جب وہ نزول آفات اور حوادث فوق الطاقت سے نہایت شکستہ اور دردمند اور کوفتہ ہو جاتے ہیں اور حزن اور قلق انتہا کو پہنچ جاتا ہے تب خدا تعالیٰ کی صفت کلام ان کے دل پر متجلی ہوتی ہے اور کلمات طیبہ الہیہ سے ان کو سکینت اور تشفی بخشی جاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ ملہم کی انکساری حالت الہامی آگ کے افروختہ به بالاتر سمجھے تو وہ صداقت صرف اس وجہ سے رڈ کرنے کے لائق نہیں ٹھہرے گی کہ عقل اس کی حقیقت تک نہیں پہنچتی دنیا میں بہتیرے ایسے خواص نباتات و جمادات و حیوانات میں پائے جاتے ہیں کہ وہ تجارب صحیحہ کے ذریعہ سے ثابت ہیں مگر عقل انسان کے مافوق ہیں یعنی عقل ان کی حقیقت تک پہنچ نہیں سکتی اور ان کی حقیقت بتلا نہیں سکتی پس ایسا ہی وہ وحی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی اور پاک دلوں تک وہ علوم پہنچاتی ہے جو بشری طاقتوں سے بلند تر ہیں پھر جب کہ یہ حال ہے کہ عقل بجائے خود کوئی چیز نہیں بلکہ ثابت شدہ صداقتوں کے ذریعہ سے قدر و منزلت پیدا کرتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وحی سماوی ایک ثابت شده صداقت ہے جو اپنے اندر اعجازی قوت رکھتی ہے اور علوم غیبیہ پر مشتمل ہوتی ہے اور ہم اس دعوٹی کے ثابت کرنے کے ذمہ دار ہیں پھر آزمائش کے لئے متوجہ نہ ہونا کیا ان لوگوں کا شیوہ ہو سکتا ہے جو حقیقی صداقتوں کے بھوکے اور پیاسے ہیں ۔ سہو کتابت ہے ” مِنْ قَبْلِكَ " کے الفاظ لکھنے سے رہ گئے ہیں ۔ ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی و روح المعانی الحج :۵۳۔ (ناشر) الحج : ۵۳