آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 228

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۸ آئینہ کمالات اسلام ۲۳۸ قوت اس کے کام میں لگ جائے تو آخری نتیجہ اس کی اس حالت کا یہ ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہدایت کی اعلیٰ تجلیات تمام حُجب سے مبرا ہو کر اس کی طرف رخ کرتی ہیں اور طرح طرح کی برکات اس پر نازل ہوتی ہیں اور وہ احکام اور وہ عقائد جو محض ایمان اور کانپتا اور لرزتا ہے اور ان کی روح اس کو سجدہ کر رہی ہے ہم نے جس کسی ایسے مقام سے ان کی تفسیر کو دیکھا جہاں انہیں قرآن کریم سچ مچ فلسفہ موجودہ کے مخالف یا بظاہر نظر مخالف معلوم ہوتا تھا وہاں ی پایا کہ سیدصاحب اقراری مدعاعلیہ کی طرح فلسفہ کے قدموں پر گر پڑے۔ اور فلفی تعلیمات کو بسر و چشم قبول کر کے تاویلات رکیکہ کے ساتھ قرآن کریم کی طرف سے ایسی ذلت کے ساتھ صلح کا پیغام پہنچایا کہ جیسے عاجز اور مغلوب دشمن در ماندہ ہو کر اور ہر طرف سے رک کر چند کچے اور بے ہودہ عذرات سے مصالہ کا اب ہوتاہے ہم کو شوق ہ رہا کہ سید صاب کی کوئی ایسی تالیف بھی دیکھیں جس میں سید صاحب نے کوئی تیز تلوار فلسفہ موجودہ پر چلائی ہو اور مخالفت کے موقع پر بغیر کسی تاویل کے قرآن کریم کا بول بالا ثابت کیا ہو مگر افسوس کہ یہ ہمارا شوق پورا نہ ہوا۔ اگر سید صاحب ان احادیث کی تاویلات کرتے جو قرآن کریم کے بینات سے بظاہر ان کو معارض معلوم ہوتیں اور نیز فلسفہ موجودہ کے رو سے قابل اعتراض ٹھہرتیں تو ہمیں چنداں افسوس نہ ہوتا کیونکہ ہم خیال کرتے کہ بڑا مت کا اور مدار ایمان جس کا حرف حرف قطعی اور متواتر اور یقینی الصحت ہے یعنی قرآن کریم سید صاحب کے ہاتھ میں ہے مگر ان کی اس لغزش کو کہاں چھپائیں اور کیونکر پوشیدہ کریں کہ انہوں نے تو قرآن کریم پر ہی خط نسخ کھینچنا چاہا۔ میں کبھی تسلیم نہیں کروں گا کہ کسی موقع پر ان کے قلب نے شہادت دی ہو کہ جو کچھ تاویلات کا دور دراز تک دامن انہوں نے پھیلایا ہے وہ صحیح ہے بلکہ جا بجا خود ان کا دل ان کو ملزم کرتا ہوگا کہ اے شخص تیری تمام تاویلات ایسی ہیں کہ اگر قرآن کریم ایک مجسم شخص ہوتا تو بصد زبان ان سے بیزاری ظاہر کرتا اور اس نے بیزاری ظاہر کی ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کو سخت مورد غضب ٹھہراتا ہے جو اس کی آیات میں الحاد