آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 212
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۱۲ آئینہ کمالات اسلام ۲۱۲ ثابت قدم نکلیں گے کہ اگر ایمان افلاک پر بھی ہوتا تب بھی اس کو نہ چھوڑتے سو یہ تعریف کہ وہ ایمان کو آسمان پر سے بھی لے آتے اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں آئیں گے کہ جب چاروں طرف بے ایمانی پھیلی ہوئی ہوگی اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت دلوں سے نکل جائے گی مگر ان کا ایمان ان دلوں میں بڑے زور میں ہوگا اور خدا تعالیٰ کے لئے بلاکشی کی ان میں بہت قوت ہوگی اور صدق اور ثبات بے انتہا ہو گا ۔ نہ کوئی خوف ان کے لئے مانع ہوگا اور نہ کوئی دنیوی امید ان کو سست کرے گی اور ایمانی قوت انہیں باتوں سے آزمائی جاتی ہے کہ ایسی آزمایشوں کے وقت اور بے ایمانی کے زمانہ میں ثابت نکلے ۔ سو اس حدیث میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس گروہ کا اسی وقت میں آنا ضروری ہے جب کہ اس کی آزمائش کے لئے ایسے ایسے اسباب موجود ہوں خدا تعالی بغیر وسائط کے کوئی کام نہیں کرتا اور جن کو وسائط ٹھہراتا ہے پہلے ان کو ان کاموں کی مناسب حال قوتیں اور طاقتیں عطا کرتا ہے مثلاً شعور کے کام صاحب اور ہم نے ارادہ کیا تھا کہ اُن اعتراض کا جواب بھی تحریر کریں کہ زمین کیوں چار دن میں بنائی گئی اور آسمان دو دن میں ۔ اور کیوں یہ لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو چا رفرشتے اٹھا رہے ہیں اور قیامت کے دن آٹھ اٹھائیں گے اور اس کے کیا معنے ہیں کہ ابتدا میں خدا تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا لیکن چونکہ اب وقت بہت کم ہے اور طول بہت ہو گیا ہے اور ان اعتراضات کے جوابات نہایت درجہ کے معارف و حقائق سے بھرے ہوئے ہیں جو بہت طول چاہتے ہیں اس لئے بالفعل ہم اس حاشیہ کو ختم کرتے ہیں اور انشاء الله القدیر براهین احمدیہ کے حصہ پنجم میں یہ تمام معارف عالیہ تحریر کر کے دکھلائیں گے اور خلق اللہ پر ظاہر کریں گے کہ ہمارے بقیه حاشیه در حاشیه اس “ پڑھا جائے۔ سہو کا تب ہے۔ (شمس)