آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 196
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۹۶ آئینہ کمالات اسلام 199 ملتی ہے اور قرآن کریم کا بڑے زور شور سے یہ دعوی ہے کہ وہ حیات روحانی صرف متابعت اس رسول کریم سے ملتی ہے اور تمام وہ لوگ جو اس نبی کریم کی متابعت سے سرکش ہیں وہ مردے ہیں جن میں اس حیات کی روح نہیں ہے اور حیات روحانی سے مراد انسان کے وہ علمی اور عملی قوی ہیں جو روح القدس کی تائید سے زندہ ہو جاتے ہیں اور قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ جن احکام پر اللہ جل شانہ انسان کو قائم کرنا چاہتا ہے وہ چھ سو ہیں ایسا ہی اس کے مقابل پر جبرائیل علیہ السلام کے پر بھی چھ سو ہیں اور بیضہ بشریت جب تک چھ سو کم کو سر پر رکھ کر جبرائیل کے پروں کے نیچے نہ آوے اس میں فنافی اللہ ہونے کا بچہ پیدا نہیں ہوتا اور انسانی حقیقت اپنے اندر چھ سو بیضہ کی استعدا د رکھتی ہے۔ پس جس شخص کا چھ سو بیضہ استعداد جبرائیل کے چھ سو پر کے نیچے آ گیا وہ انسان کامل اور یہ تولد اس کا ظاہر نہیں کیا جیسے ہمیشہ سے دنیا کے جاہل لوگ تقاضا کر رہے ہیں بلکہ جن کی استعدادوں پر پردہ تھا ان پر ابتلا کا پردہ بھی ڈل دیا جیسا کہ یہ ذکرقرآن کریم میں موجود ہے کہ مکہ کے جاہل یہ درخواست کرتے ہ تھے کہ ہم اس شرط پر ایمان لا سکتے ہیں کہ عرب کے تمام مردے زندہ کئے جائیں یا یہ کہ ہمارے روبرو بقیه حاشیه در حاشیه وغیرہ سے بیمار رہتا ہے تو فاقہ اور بیماری کی تکالیف شاقہ سے وہ گوشت تحلیل ہو جاتا ہے اور بسا اوقات انسان ایسی لاغری کی حالت پر پہنچ جاتا ہے جو وہی پانچویں درجہ کا خاکہ یعنی مشت استخوان رہ جاتا ہے جیسے مدقوقوں اور مسلولوں اور اصحاب ذیا بیطس میں مرض کے انتہائی درجہ میں یہ صورت ظاہر ہو جاتی ہے ۔ اور اگر کسی کی حیات مقدر ہوتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ اس کے بدن پر گوشت چڑھاتا ہے غرض یہ وہی گوشت ہے جس سے خوبصورتی اور تناسب اعضا اور رونق بدن پیدا ہوتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ یہ گوشت خاکہ طیار ہونے کے بعد آہستہ آہستہ جنین پر چڑھتا رہتا ہے ۔ اور جب جنین