آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 188
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۸۸ آئینہ کمالات اسلام ۱۸۸ ہیں ۔ ہیں لیکن علم عظمت علم عظمت و وحدانیت ذات اور معرف ات اور معرفت شیون وصفات جلالی و جمالی حضرت باری عزاسمہ وسیلۃ الوسائل اور سب کا موقوف علیہ ہے کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الہی سے بکلی بے نصیب ہے وہ کب توفیق پا سکتا ہے کہ صوم اور صلوۃ بجالا وے یا دعا کرے یا اور خیرات کی طرف مشغول ہو ۔ ان سب اعمال صالح کا محرک تو معرفت ہی ہے اور یہ تمام دوسرے وسائل دراصل اسی کے پیدا کردہ اور اس کے بنین و بنات ہیں اور ابتدا اس معرفت کی پر توہ اسم رحمانیت سے ہے نہ کسی عمل سے نہ کسی دعا سے بلکہ بلا علت فیضان سے صرف ایک موهبت ہے یــدی مــن يشاء ويضل من يشاء مگر پھر یہ معرفت اعمال صالحہ اور حسن ایمان کے شمول سے زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ آخر الہام اور کلام الہی کے رنگ میں نزول بقي اس کی تاثیرات پہنچاتے ہیں اور مادہ موذیہ کا اخراج باذنہ تعالیٰ شروع ہو جاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ نے نہایت حکمت اور قدرت کاملہ سے سلسلہ ظاہری علوم وفنون کو بھی ضائع ہونے نہیں دیا اور اپنی خدائی کے تصرفات اور دائمی قبضہ کو بھی معطل نہیں رکھا اور اگر خدا تعالیٰ کا اس قدر دقیق در دقیق تصرف اپنی مخلوق کے عوارض اور اس کی بقا اور فنا پر نہ ہوتا تو وہ ہرگز خدا نہ ٹھہر سکتا اور نہ توحید درست ہو سکتی ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عالم میں نہیں چاہا کہ یہ تمام اسرار عام نظروں میں بدیہی ٹھہر جاویں کیونکہ اگر یہ بدیہی ہوتے تو پھر ان پر ایمان لانے کا کچھ بھی ثواب نہ ہوتا مثلاً وقت خرچ کر کے اور ان بچوں کو دیکھ کر جو تام خلقت یا نا تمام خلقت کی حالت میں پیدا ہوتے ہیں یا سقوط حمل کے طور پر گرتے ہیں ۔ حقیقت واقعیہ تک پہنچ سکتا ہے اور جیسا کہ ہم اپنے ذاتی مشاہدہ سے جانتے ہیں بلا شبہ یہ بات صحیح ہے کہ جب خدا تعالیٰ انسانی