آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 179
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۷۹ آئینہ کمالات اسلام کو نصیب نہیں ہوتی ان کے حواس نہایت باریک بین ہو جاتے ہیں اور معارف اور دقائق ۱۷۹ کے پاک چشمے ان پر کھولے جاتے ہیں اور فیض سائغ ربانی ان کے رگ وریشہ میں خون کی طرح جاری ہو جاتا ہے۔ اب پھر ہم اصل بحث کی طرف جو بیان کیفیت اسلام ہے عنان قلم پھیرتے ہیں سو واضح ہو کہ یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اسلام کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے سو اس بیان کے بعد یہ تذکرہ بھی نہایت ضروری ہے کہ وہ حقیقت جس کا نام اسلام ہے کیونکر حاصل ہو سکتی ہے اور قرآن کریم میں اس کے حصول کے لئے کیا کیا وسائل بیان فرمائے گئے ہیں ۔ اول جاننا چاہئے کہ کسی شے کا وسیلہ اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے ٹھیک ٹھیک عورتوں کو سقوط حمل کی ایک مرض ٹھہر جاتی ہے تو طبیب حاذق سمجھ لیتا ہے کہ رحم کی قوتیں کمزور ہو گئی ہیں تب وہ مثلاً اوائل حمل میں ایک ملین خفیف سا دیتا ہے اور مواد موذیہ کو دور کر کے مقویات رحم مثلاً جوارش لو لو اور دواء المسک وغیرہ استعمال کراتا ہے اور عورت کو اس کے مرد سے پر ہیز فرماتا ہے تب اس تجویز سے صریح فائدہ محسوس ہوتا ہے اور بچہ ساقط ہونے سے بچ جاتا ہے ایسا ہی جب دا نا با غبان کسی پھل دار درخت کو ایسا پاتا ہے کہ اب وہ پھل کم دیتا ہے تو وہ غور کرتا ہے کہ اس کا کیا سبب ہے تب بلحاظ اسباب متفرقہ کبھی وہ شاخ تراشی کرتا ہے اور کبھی دور کھود کر بقد رضرورت آبپاشی کراتا ہے اور کبھی معمولی کھاد بقي ہے۔ اور بلحاظ شیون و صفات کاملہ وظلتیت تام روح الہی کا مظہر تام ہے ۔ پھر بعد اس کے انسان کو ہم نے دوسرے طور پر پیدا کرنے کے لئے یہ طریق جاری کیا جو انسان کے اندر نطفہ پیدا کیا اور اس نطفہ کو ہم نے ایک مضبوط تھیلی میں جو ساتھ ہی رحم میں بنتی