آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 177
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۷۷ آئینہ کمالات اسلام ہو جو علوم اور عقائد صحیحہ سے بے خبری اور ناراست اور بے ہودہ باتوں میں مبتلا ہونا ۱۷۷ ہے تو یہ تو صریح متقیوں کی صفت کے برخلاف ہے کیونکہ حقیقی تقویٰ کے ساتھ جاہلیت جمع نہیں ہو سکتی۔ حقیقی تقوی اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانَا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِه یعنی اے ایمان لانے والو اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقاء کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور تمہارے غیروں میں فرق رکھ دے گا وہ فرق یہ ہے کہ تم کو ایک نور دیا جائے گا جس نور کے ساتھ تم اپنی تمام راہوں میں چلو گے یعنی وہ نور تمہارے تمام افعال اور اقوال اور قومی اور حواس میں آ جائے گا تمہاری عقل میں بھی نور ہوگا اور تمہاری ایک اٹکل کی بات میں بھی نور ہوگا اور تمہاری عالم ایک ہی ذات سے صادر ہیں اور اس ذات واحد لاشریک کا یہی تقاضا ہونا چاہئے کہ دونوں نظام ایک ہی شکل اور طرز پر واقع ہوں تا دونوں مل کر ایک ہی خالق اور صانع پر دلالت کریں کیونکہ توحید فی النظام توحید باری عزّ اسمۂ کے مسئلہ کو موید ہے وجہ یہ کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کئی خالق ہوتے تو اس نظام میں اختلاف کثیر پایا جاتا ۔ غرض یہ بات نہایت سیدھی اور صاف ہے کہ ملا ئک اللہ عالم کبیرکے لئے ایسے ہی ضروری ہیں جیسے قومی روحانیہ و حسیہ نشاء انسانیہ کے لئے جو عالم صغیر ہے ۔ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ اگر ملائک فی الحقیقت موجود ہیں تو کیوں نظر نہیں ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا فَكَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنُهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبْرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ کے یعنی پہلے تو ہم نے انسان کو اس مٹی سے پیدا کیا جو زمین کے تمام اس بات کا ثبوت کہ چھ دن میں زمین و آسمان کو کیوں پیدا کیا الانفال : ٣٠ الحديد : ۲۹ المومنون : ۱۳ تا ۱۵