آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 164
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۶۴ آئینہ کمالات اسلام ۱۷۴) کا نام اول المسلمین رکھتا ہے اور تمام مطیعوں اور فرمانبرداروں کا سردار ٹھہراتا ہے اور سب سے پہلے امانت کو واپس دینے والا آنحضرت صلعم کو قرار دیتا ہے تو پھر کیا بعد اس کے کسی قرآن کریم کے ماننے والے کو گنجائش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ میں کسی طرح کا جرح کر سکے ۔ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں اسلام کے لئے کئی مراتب رکھ کر سب مدارج سے اعلیٰ درجہ وہی ٹھہرایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کو عنایت فرمایا۔ سبحان الله ما اعظم شانک یا رسول الله - ه موسیٰ و عیسی ہمہ خیل تواند جمله درین راه طفیل تواند پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان کو کہہ دے کہ میری راہ جو ہے وہی راہ سیدھی ہے سو تم اس کی پیروی کرو اور اور راہوں پر مت چلو کہ وہ تمہیں خدا تعالیٰ سے دور ڈال بقي بقیه حاشیه در حاشیه اپنے اندر رکھتی ہوں مجفف ہوں قابض ہوں جالی ہوں اور منتج اور مقطع مواد لزجہ ہوں اور سموم باردہ کا تریاق ہوں خاص کر عقرب کیلئے اور اخلاط غلیظہ اور رقیقہ کا مسہل ہوں اور حیض اور بول کی مدد ہوں اور جگر کو قوت دیتی ہوں اور اس کے اور نیز طحال اور امعاء کے سدے کھولتی ہوں اور ریچوں کو تحلیل کرتی ہوں اور پرانی کھانسی کو مفید ہوں اور ضیق النفس اور سل اور قرحہ ریہ وامعاء اور استسقاء کی تمام قسموں اور برقان سدی اور اسہال سدی اور ماساریقا اور ذو سنطا ریا اور تحلیل نفخ اور ریاح اور اورام باردہ احشاء تخمه و مغص و بواسیر ونوا سیر و تپ ربع کو مفید ہوں ۔ اور جدوار کہتی ہے کہ میں تیسرے درجہ کے اول مرتبہ میں گرم اور خشک ہوں اور حرارت غریزی سے بہت ہی مناسبت رکھتی ہوں اور چل سکتا ہے اور آہستہ آہستہ چلنے سے وہ عاجز ہے یا ز ہے بلکہ اس شخص کو کامل القدرت کہیں گے کہ جو دونوں طور جلد اور دیر میں قدرت رکھتا ہو یا مثلاً ایک شخص ہمیشہ اپنے ہاتھ کو لمبا رکھتا ہے اور اکٹھا کرنے کی