آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 150

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۵۰ آئینہ کمالات اسلام ۱۵۰ آئندہ کی خبریں دیتے ہیں اور وہ خبریں مطابق واقعہ نکلتی ہیں بسا اوقات عین بیداری میں سے ایک شربت یا کسی قسم کا میوہ عالم کشف سے ہاتھ میں آتا ہے اور وہ کھانے میں نہایت لذیذ ہوتا ہے اور ان سب امور میں یہ عاجز خود صاحب تجربہ ہے کشف کی اعلیٰ قسموں میں یہ ایک قسم ہے کہ بالکل بیداری میں وار میں واقع ہوتی ہے اور یہاں تک اپنے ذاتی تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ ایک شیریں طعام یا کسی قسم کا میوہ یا شربت غیب سے نظر کے سامنے آگیا ہے اور وہ ایک غیبی ہاتھ سے منہ میں پڑتا جاتا ہے اور زبان کی قوت ذائقہ اس کے لذیذ طعم سے لذت اٹھائی جاتی ہے اور دوسرے لوگوں سے باتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حواس ظاہری بخوبی اپنا اپنا کام دے رہے ہیں اور یہ شربت یا میوہ بھی کھایا جارہا ہے اور اس کی لذت اور حلاوت بھی ایسی ہی کھلی کھلی طور پر معلوم ہوتی ہے بلکہ وہ لذت اس لذت سے نہایت الطف ہوتی ہے اور یہ ہرگز نہیں کہ وہ وہم ہوتا ہے یا صرف تو ایسا شبہ در حقیقت غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوگا کیونکہ ہم ابھی پہلے اس سے لکھ چکے ہیں کہ یہ بات ایک ثابت شدہ صداقت ہے کہ اجرام علوی اور عناصر اور کائنات الجو جو ہماری بقا اور حیات اور معاشرت کے خادم ٹھہرائے گئے ہیں علم اور شعور اور ارادہ نہیں رکھتے پس صرف انہیں کے تغیرات اور حوادث سے وہ کام اور وہ اغراض اور وہ مقاصد ہمارے لئے حاصل ہو جانا جو صرف عاقلا نہ وزن اور تعدیل اور تدبیر او مصلحت اندیشی سے صادر ہو سکتے ہیں بداہت ممتنع تو اس کا یہ جواب ہے کہ اکثر قرآن کریم میں سماء سے مراد کل ما في السماء کو لیا ہے جس میں آفتاب اور ماہتاب اور تمام ستارے داخل ہیں ۔ ماسوا اس کے ہر یک جرم لطیف ہو یا کثیف قابل خرق ہے بلکہ لطیف تو بہت زیادہ خرق کو قبول کرتا ہے پھر کیا تعجب ہے کہ آسمانوں کے مادہ میں بحکم رب قدیر و حکیم ایک قسم کا خرق پیدا ہو جائے ۔ و ذلک علی الله يسير ۔ بالآخر یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قرآن کریم کے ہر یک لفظ کو حقیقت پر حمل کرنا بھی بڑی غلطی ہے اللہ جل شانہ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے ۔ سو ہمیں اس فکر میں پڑنا کہ انشقاق اور انفجار آسمانوں کا کیونکر ہوگا در حقیقت