آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 144
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۴۴ آئینہ کمالات اسلام ۱۴﴾ اور جو آیت فَمِنْهُمْ ظَالِمُ میں ناجیوں میں شمار کئے گئے ہیں ۔ (۲) دوسرے مشرک اور کافر اور سرکش ظالم جو جہنم میں گرائے جائیں گے اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ متقی بھی اس نار کی مس سے خالی نہیں ہیں ۔ اس بیان سے مراد یہ ہے کہ متقی اسی دنیا میں جو دار الا بتلا ہے انواع اقسام کے پیرا یہ میں بڑی مردانگی سے اس نار میں اپنے تئیں ڈالتے ہیں اور خدا تعالیٰ کیلئے اپنی جانوں کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ میں گراتے ہیں اور طرح طرح کے آسمانی قضاء و قدر بھی نار کی شکل میں ان پر وارد ہوتے ہیں وہ ستائے جاتے اور دکھ دیئے جاتے ہیں اور اس قدر بڑے بڑے زلزلے ان پر آتے ہیں کہ ان کے ماسوا کوئی ان زلازل کی برداشت نہیں کر سکتا اور حدیث صحیح میں کیلئے جان کی طرح ہیں اور قیام اور بقا ان تمام چیزوں کا فرشتوں کے تعلق پر موقوف ہے۔ اور ان کے ان جاء کی طرف کھسک جانے سے تمام اجرام ستاروں اور شمس وقمر اور آسمان کو موت کی صورت پیش آتی ہے تو پھر اس صورت میں وہ جان کی طرح ہوئے یا کچھ اور ہوئے۔ میں ان مولویوں کی حالت پر سخت افسوس کرتا ہوں کہ جوان تمام کھلے کھلے مقامات قرآنی کو دیکھ کر پھر بھی اس بات کے قبول کرنے سے متامل ہیں کہ ملائکہ کو اجر مساوی بلکہ بعض فرشتوں کو جو عصر تو ہیں عناصر اور اجرام سماوی سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسا کہ ارواح کو قوالب کے ساتھ ہوتا ہے یہ تو سچ ہے پیس یہ استقرا ہمیں اس بات کے سمجنے کیلئے بہت مدد دے سکتا ہے کہ اگر چہ یونانیوں کی طرح آسمان کی حد بست نا جائز ہے مگر یہ بھی تو درست نہیں ہے کہ آسمانوں سے مراد صرف ایک خالی فضا اور پول ہے جس میں کوئی مخلوق مادہ نہیں ہم جہاں تک ہمارے تجارب رویت رسائی رکھتے ہیں کوئی مجرد پول مشاہدہ نہیں کرتے پھر کیونکر خلاف اپنی مستمر استقرا کے حکم کر سکتے ہیں کہ ان مملو فضاؤں سے آگے چل کر ایسے فضا بھی ہیں جو بالکل خالی ہیں۔ کیا برخلاف ثابت شدہ استقراء کے اس