آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 125
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۲۵ آئینہ کمالات اسلام تھے۔ کچھ توقف اور بحث نہیں کرتے تھے اور حرص رکھتے تھے کہ جو کچھ آنحضرت صلعم ستر اور خلوت (۱۳۵) میں کرتے ہیں وہ بھی معلوم کر لیں ۔ پس کچھ شک نہیں کہ جو شخص احوال صحابہ میں تامل کرے کہ وہ کیونکر ہر یک امر اور قول اور فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حجت دین سمجھتے تھے اور کیونکر وہ آنحضرت کے ہر یک زمانہ اور ہر یک وقت اور ہر یک دم کو وحی میں مستغرق جانتے تو اس اعتقاد کے رکھنے سے کہ کبھی جبرائیل حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر آسمان پر چلا جاتا تھا خدا تعالیٰ سے شرم کرے گا اور ڈرے گا کہ ایسا وہم بھی اس کے دل میں گزرے مگر افسوس کہ ہمارے یہ علماء جو محدث بھی کہلاتے ہیں کچھ بھی ڈرتے نہیں اگر ان کے ایسے عقیدوں کو ترک کرنا کفر ہے تو ایسا کفر اگر ملے تو زہے سعادت ۔ ہم ان کے ایسے ایمان سے سخت بیزار ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف ان کے ایسے اقوال سے میں ظاہری اسباب بھی رکھتی ہیں جن کے بیان میں ہیئت اور طبعی کے دفتر بھرے پڑے ہیں لیکن با ایں ہمہ عارف لوگ جانتے ہیں کہ ان اسباب کے نیچے اور اسباب بھی ہیں جو مد بر بالا رادہ ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں نام ملائک ہے وہ جس چیز سے تعلق رکھتے ہیں اس کے تمام کا روبار کو انجام تک پہنچاتے ہیں اور اپنے کاموں میں اکثر ان روحانی اغراض کو مد نظر رکھتے ہیں جو مولیٰ کریم نے ان کو سپرد کی ہیں اور ان کے کام بقيه بے ہودہ نہیں بلکہ ہر ایک کام میں بڑے بڑے مقاصد ان کو مد نظر رہتے ہیں ۔ اب جبکہ یہ بات ایک ثابت شدہ صداقت ہے؟ ہے جس کو ہم اس سے پہلے بھی کسی قدر تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور ہمارے رسالہ توضیح مرام میں بھی یہ تمام بحث نہایت لطافت بیان سے مندرج ہے کہ حکیم مطلق نے اس عالم کے احسن طور پر کا روبار چلانے کیلئے دو نظام رکھے ہوئے ہیں اور باطنی نظام فرشتوں کے متعلق ہے اور کوئی جز ظاہری نظام کی ایسی نہیں جس کے ساتھ در پردہ باطنی نظام نہ ہو تو اس صورت میں