آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 107

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۰۷ آئینہ کمالات اسلام صلى الله عليه وسلم اذا اراد الله تبارک و تعالى أن يوحى بامره تكلم ﴿۱۰﴾ بالوحى فاذا تكلم اخذت السموات منه رجفة او قال رعدة شديدة من خوف الله تعالى فاذا سمع بذلك اهل السموات صعقوا و خروا لله سجدا فيكون اول من يرفع راسه جبرائيل عليه الصلوة والسلام فكلمه الله من وحيه بما اراد فيمضى به جبرائيل عليه الصّلوة والسلام على الملائكة | كلها من سماء الى سماء يسئله ملائكتها ماذا قال ربنا يا جبرئيل فيقول عليه السلام قال الحق و هـو الـعـلــى الكبير فيقولون كلهم مثل ما قال جبرائيل فينتهى جبرائيل بالوحي الى حيث امره الله تعالى من السماء والارض یعنی نو اس بن سمعان سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس وقت خدا تعالیٰ ارادہ فرماتا ہے کہ وہ کوئی امر وحی اپنی طرف سے نازل کرے تو بطور وحی متکلم ہوتا ہے یعنی ایسا کلام کرتا ہے جو ابھی اجمال پر مشتمل ہوتا ہے اور ایک چادر پوشیدگی کہ کوئی نبی اور ملہم من اللہ پیدا ہوتا ہے اور عرب کے لوگ کا ہنوں کے ایسے تابع تھے جیسا کہ ایک مرید مرشد کا تابع ہوتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے وہی بدیہی امر ان کے سامنے قسم کے پیرا یہ میں پیش کیا تا اُن کو اس سچائی کی طرف توجہ پیدا ہو کہ یہ کاروبار خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے انسان کا ساخته پرداخت نہیں۔ اگر یہ سوال پیش ہو کہ شہب کا گرنا اگر کسی نبی یا ملہم یا محدث کے مبعوث ہونے پر دلیل ہے تو پھر کیا وجہ کہ اکثر ہمیشہ شہب گرتے ہیں مگر اُن کے گرنے سے کوئی نبی یا محد ث دنیا میں نزول فرما نہیں ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ حکم کثرت پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ جس زمانہ میں یہ واقعات کا کثرت سے ہوں اور خارق عادت طور پر اُن کی کثرت پائی جائے تو کوئی مرد خدا دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق اللہ کے لئے آتا ہے کبھی یہ واقعات ارہاص کے طور پر اُس کے وجود سے اس سوال کا جواب کہ شہب تو ہمیشہ گرتے ہیں مگر کاہنوں کے لئے اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہ تھا کہ کثرت سقوط شہب کی کسی نبی اللہ کے ظہور پر وحی انبیاء پر کس طور سے نازل ہوتی ہے اُن کے گرنے سے ہمیشہ نبی ظاہر نہیں ہوتے ۔ دلالت ہے کیونکہ اُن کے شیاطین کثرت شہب کے ایام میں سماوی اخبار سے بکلی محروم رہتے تھے ۔