آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 102

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۰۲ آئینہ کمالات اسلام ۱۰۲ قرآن کریم روحانی حیات کے ذکر سے بھرا پڑا ہے اور جا بجا کامل مومنوں کا نام احیاء یعنی زندے اور کفار کا نام اموات یعنی مُردے رکھتا ہے۔ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ کامل ۔ ہے کہ کامل مومنوں کو روح القدس کے دخول سے ایک جان مل جاتی ہے اور گفار گو جسمانی طور پر حیات رکھتے ہیں مگر اُس حیات سے بے نصیب ہیں جو دل اور دماغ کو ایمانی زندگی بخشتی ہے ۔ ہے۔ اس جگہ یا درکھنا چاہیے کہ اس آیت کریمہ کی تائید میں احادیث نبویہ میں جا بجا بہت کچھ ذکر ہے اور بخاری میں ایک حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے ہے اور وہ یہ ہے۔ ان رسول الله صلی الله عليه وسلم وضع لحسان ابن ثابت منبرا في المسجد فكان ينافح عن رسول الله صلى الله عليه سورہ والنجم کی چند آیات کی تفسیر بقيه حاشيه روح القدس جو ہمیشہ کے لئے مومنوں کو ملتا ہے اس پر شہادت دینے والی بخاری کی حدیث که بیشک روحانی حفاظت کے لئے بھی حکیم مطلق نے کوئی ایسا انتظام مقرر کیا ہو گا کہ جو جسمانی انتظام سے مشابہ ہو گا سو وہ ملا یک کا حفاظت کے لئے مقرر کرنا ہے۔ سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے یہ قسم آسمان اور ستاروں کی کھائی تاملا یک کی حفاظت کے مسئلہ کو جو ایک مخفی اور نظری مسئلہ ہے نجوم وغیرہ کی حفاظت کے انتظام سے جو ایک بدیہی امر ہے بخوبی کھول دیوے اور ملا یک کے وجود کے ماننے کے لئے غور کرنے والوں کے آگے اپنے ظاہر انتظام کو رکھ دیوے جو جسمانی انتظام ہے تا عقلِ سلیم جسمانی انتظام کو دیکھ کر اسی نمونہ پر روحانی انتظام کو بھی سمجھ لیوے۔ دوسری قسم جو بطور نمونہ کے ذیل میں لکھی جاتی ہے یہ ہے۔ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوى - وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى