آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 100
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۰۰ آئینہ کمالات اسلام ۱۰۰ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کے ملہم بندوں کے ساتھ رہتا ہے اور انہیں علم اور حکمت اور آیت وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ کی تفسیر وا پاکیزگی کی تعلیم کرتا ہے یہ آیت کریمہ ہے أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ سورة المجادله یعنی اُن مومنوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ دل میں ایمان کے لکھنے سے یہ مطلب ہے کہ ایمان فطرتی اور طبعی ارادوں میں داخل ہو گیا اور حجز وطبیعت بن گیا اور کوئی تکلف اور تصنع درمیان نہ رہا۔ اور یہ مرتبہ کہ ایمان دل کے رگ وریشہ میں داخل ہو جائے اُس وقت انسان کو ملتا ہے کہ جب انسان روح القدس سے مؤید ہو کر ایک نئی زندگی پاوے اور جس طرح جان ہر وقت جسم کی محافظت کے لئے جسم کے اندر رہتی ہے اور اپنی پھر اُن کی حفاظت پر کیونکر یقین آ وے اس لئے خداوند کریم و حکیم نے اپنے قانون قدرت کو جو اجرام سماوی میں پایا جاتا ہے۔ اس جگہ قسم کے پیرا یہ میں بطور شاہد کے پیش کیا اور وہ یہ ہے کہ قانونِ قدرت خدا تعالیٰ کا صاف اور صریح طور پر نظر آتا ہے کہ آسمان اور جو کچھ کواکب اور شمس اور قمر اور جو کچھ اُس کے پول میں ہوا وغیرہ موجود ہے یہ سب انسان کے لئے جسمانی خدمات میں لگے ہوئے ہیں اور طرح طرح کے جسمانی نقصانوں اور حرجوں اور تکلیفوں اور تنگیوں سے بچاتے ہیں اور اُس کے جسم اور جسمانی قوٹی کے کلّ ما يحتاج کو طیار کرتے ہیں خاص کر رات کے وقت جو ستارے پیدا ہوتے ہیں جنگلوں اور بیابانوں میں چلنے والے اور سمندروں کی سیر کرنے والے اُن چمکدار ستاروں سے بڑا ہی فائدہ اٹھاتے ہیں اور اندھیری رات کے وقت میں ہر یک نجم ثاقب رہنمائی کر کے جان کی حفاظت کرتا ہے اور اگر یہ محافظ نہ ہوں جو اپنے اپنے وقت میں شرط حفاظت بجالا رہے ہیں تو انسان ایک طرفۃ العین کے لئے بھی زندہ نہ رہ سکے سوچ کر جواب دینا چاہیے کہ کیا ہم بغیر اُن تمام محافظوں خدا تعالیٰ کا جسمانی انتظام تقاضا کرتا ہے کہ روحانی انتظام بھی ایسا ہی ہو کیونکہ ان دونوں انتظاموں کا مبدا ایک ہی ہے۔ بقیه حاشیه ا المجادلة : ٢٣