آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 91

روحانی خزائن جلد ۵ ۹۱ آئینہ کمالات اسلام یا بہت ہی تھوڑے عرصہ کے لئے اور پھر آسمان پر جبرائیل چڑھ جاتا ہے اور ان کو خالی 91 چھوڑ دیتا ہے بلکہ بسا اوقات چالیس چالیس روز بلکہ اس سے بھی زیادہ روح القدس یا یوں کہو کہ جبرائیل کی ملاقات سے انبیاء محروم رہتے ہیں مگر دوسرا قرین جو شیطان ہے وہ تو نعوذ باللہ ان کا ساتھ ایک دم بھی نہیں چھوڑ تا گو آ خر کو مسلمان ہی ہو جائے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ محجوب اور حقائق قرآن کریم سے غافل اور بے نصیب ہیں اور گھلے طور پر ان کا یہ عقیدہ بھی نہیں بلکہ نادانی اور قلت تدبر اور پھر اِس عاجز کے ساتھ بخل اور کینہ ورزی کی وجہ سے اس بلا میں پڑ گئے ہیں کیونکہ اس عاجز کے مقابل پر جن راہوں پر یہ لوگ چلے اُن را ہوں میں یہ آفات موجود تھیں اس لئے نا دانستہ اُن میں پھنس گئے جیسا کہ ایک پرندہ نا دانستہ کسی دانہ کی طمع سے ایک جال میں پھنس جاتا ہے ۔ بات یہ ہے کہ جب اِن لوگوں نے اپنے حافظہ میں رکھ لینی چاہیئے کہ مقربوں کا روح القدس کی تاثیر سے علیحد ہ ہونا ایک دم کے لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ اُن کی نئی زندگی کی روح یہی روح القدس ہے پھر وہ اپنی روح سے کیونکر علیحدہ ہو سکتے ہیں ۔ اور جس علیحد گی کا ذکر احادیث اور بعض اشارات قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اُس سے مراد صرف ایک قسم کی تجلّی ہے کہ بعض اوقات بوجہ مصار ت بوجه مصالح الہی اُس قسم کی تجلی میں کبھی دیر ہو گئی ہے او ہے اور اصطلاح قرآن ح قرآن کریم میں اکثر نزول سے مراد وہی کی سے مراد وہی تجلّی ہے ورنہ ذرہ سوچنا چاہیئے کہ جس آفتاب صداقت کے حق میں یہ آیت ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُولی یعنی اُس کا کوئی نطق اور کوئی کلمہ اپنے نفس اور ہوا کی طرف سے نہیں وہ تو سرا سر وحی ہے جو اُس کے دل پر نازل النجم: ۵۰۴ بطالوی اور دہلوی کا یہ عقیدہ ہے کہ انبیاء بھی اکثر صحبت روح القدس سے محروم رہتے ہیں مگر دوسرا قرین شیطان نہیں تھا اور روح القدس تو اس کے ساتھ ہی آیا اور ساتھ ہی آسمان پر گیا ۔ متمثل ہو کر نظر بھی آجاتے ہیں اور اگر اس تجلی میں دیر ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ نزول میں دیر ہوگئی ہے روح القدس کے دائمی قرب اور لوگوں کی طرح ہر وقت ان کے ساتھ بھی رہتا ہے گو ان پر قابو نہیں پاتا مگر کہتے ہیں کہ عیسی کے ساتھ کوئی نزول ملا یک سے مراد ایک قسم کی تجلی ہے جس کا صریح اثر ملیموں کے دلوں پر پڑتا ہے اور بسا اوقات ملا یک اس بجلی کے وقت کی مثال ایسی ہے کہ جیسے آگ پتھر میں ہمیشہ ہوتی ہے اور اسکی تجلی یہ ہے کہ کسی ضرب سے اس میں چنگیاری پیدا ہو جائے۔