آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 89

روحانی خزائن جلد ۵ ۸۹ آئینہ کمالات اسلام بلکہ نہایت صفائی سے نظر آ جاتا ہے افسوس ان لوگوں کی حالت پر جو فلسفہ باطلہ ۸۹﴾ کی ظلمت سے متاثر ہو کر ملایک اور شیاطین کے وجود سے انکار کر بیٹھے ہیں اور بینات اور نصوص صریحہ قرآن کریم سے انکار کر دیا اور نادانی سے بھرے ہوئے الحاد کے گڑھے میں گر پڑے ۔ اور اس جگہ واضح رہے کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن کے اثبات کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے استنباط حقائق میں اس عاجز کو منفر د کیا ہے ۔ فالحمد لله على ذالک ۔ اور اگر کوئی آر یہ یا عیسائی اس جگہ یہ اعتراض کرے بقيه حاشيا ریہ کے یہ معنے ہر گز نہیں ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان سے اپنا مقام اور مقر چھوڑ کر زمین پر نازل ہو جاتا ہے ایسے معنے تو صریح نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے مخالف ہیں چنانچہ فتح البیان میں ابن جریر سے بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث مروی ہے ۔ قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما في السماء موضع قدم الا عليه ملک ساجد او قائم و ذالك قول الملائكة و ما منا الا له مقام معلوم یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ للہ علیہ علیہ وسلم وس نے فرمایا کہ آسمان پر ایک قدم کی بھی ایسی جگہ خالی نہیں جس میں کوئی فرشتہ ساجد یا قائم نہ ہو اور یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک شخص ایک مقام معلوم یعنے ثابت شدہ رکھتا ہے جس سے ایک قدم او پر یا نیچے نہیں آ سکتا ۔ اب دیکھو اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ فرشتے اپنے مقامات کو نہیں چھوڑتے اور کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوتا جن کے ساتھ بذریعہ افاضات قرآنیہ یہ عاجز متفرد اور خاص کیا گیا ہے احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہے کہ فرشتے آسمان سے علیحدہ نہیں ہوتے کیونکہ علیحدہ ہونا اس بات کو مستلزم ملایک اور شیاطین کے وجود کا ثبوت ان نادر تحقیقاتوں میں سے ہے ہے کہ آسمان کی وہ جگہ جو اُن کے وجود سے بھری ہوئی تھی خالی ہو جائے اور یہ امر نا شدنی ہے۔