آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 80

روحانی خزائن جلد ۵ ۸۰ آئینہ کمالات اسلام ۸۰ گرو اور اسی جگہ مکرمہ سے یہ حدیث لکھی ہے کہ ملائکہ ہر یک شر سے بچانے کیلئے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور جب تقدیر مبرم نازل ہو تو الگ ہو جاتے ہیں ۔ اور پھر مجاہد سے نقل کیا ہے کہ کوئی ایسا انسان نہیں جس کی حفاظت کیلئے دائمی طور پر ایک فرشتہ مقرر نہ ہو ۔ پھر ایک اور حدیث عثمان بن عفان سے لکھی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ بین فرشتے مختلف خدمات کے بجالانے کیلئے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور دن کو ابلیس اور رات کو ابلیس کے بچے ضرر رسانی کی غرض سے ہر دم گھات میں لگے رہتے ہیں اور پھر امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے یہ حدیث مندرجہ ذیل لکھی ہے۔ احادیث نبویہ سے اس بات کا ثبوت کہ ملائک آمر خیر اور شیاطین آمر شر ضرور انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں حدثنا اسود بن عامر حدثنا سفيان حدثنى منصور عن سالم بن ابي الجعد عن | ابيه عن عبدالله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما منكم من احدا لا و قد وكل به قرينه من الجن و قرينه من الملائكة قالوا و ایاک یا رسول الله قال و اياى ولكن الله اعانني عليه فلا يأمرنى الا بخير انفرد باخراجه مسلم صفحه ۲۴۴ | کیونکہ ادنیٰ سے ادنی آدمی کو بھی نیکی کا خیال روح القدس سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی فاسق اور فاجر اور بدکار بھی سچی خواب دیکھ لیتا ہے اور یہ سب روح القدس کا اثر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہے مگر وہ تو ہے مگر وہ تعلق عظیم جو مقدسوں اور مقربوں کے ساتھ ہے اس کے مقابل پر یہ کچھ چیز نہیں گویا کالعدم ہے۔ اس بات کا جواب کہ اگر روح القدس ہر یک انسان کے ساتھ رہتا ہے تو پھر بنی آدم سے بُرے کام کیوں ہوتے ہیں۔ بقيه حاشیه : از انجملہ ایک یہ سوال ہے کہ جس حالت میں روح القدس انسان کو بدیوں سے روکنے کیلئے مقرر ہے تو پھر اس سے گناہ کیوں سرزد ہوتا ہے اور انسان کفر اور فسق اور فجور میں کیوں مبتلا ہو جا تا ہے ۔ اس کا یہ جواب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کیلئے ابتلا کے طور پر دو روحانی داعی مقرر کر رکھے ہیں ۔ ایک داعی خیر جس کا نام روح القدس ہے اور ایک داعی شر جس کا نام ابلیس اور