آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 72
روحانی خزائن جلد ۵ ۷۲ آئینہ کمالات اسلام ۷۲ کو دخل نہیں بلکہ وہ محبت صافیہ جوفنا کی حالت میں خدا وند کریم و جلیل سے پیدا ہوتی ہے کے ملنے سے لقا کی حالت میں پیدا ہوتا ۔ روح القدس کا روشن اور کامل کامل سایہ دو محبتوں الہی محبت کا خود بخود اُس پر ایک نمایاں شعلہ پڑتا ہے جس کو مرتبہ بقا اور لقا سے تعبیر کرتے ہیں اور جب محبت الہی بندہ کی محبت پر نازل ہوتی ہے تب دونوں محبتوں کے داد ملنے سے روح القدس کا ایک روشن اور کامل سایہ انسان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور لقا کے مرتبہ پر اس روح القدس کی روشنی نہایت ہی نمایاں ہوتی ہے اور اقتداری خوارق جن کا ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں اسی وجہ سے ایسے لوگوں سے صادر ہوتے ہیں کہ یہ روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں ان کے شامل حال ہوتی ہے اور اُن کے اندر سکونت رکھتی ہے اور وہ اُس روشنی سے کبھی اور کسی حال میں جدا نہیں ہوتے اور نہ وہ روشنی ان سے جدا ہوتی ہے ۔ وہ روشنی ہر دم اُن کے تنفس کے ساتھ نکلتی ہے اور ان کی نظر کے ساتھ ہر یک چیز پر پڑتی ہے۔ اور اُن کی کلام کے ساتھ اپنی نورانیت لوگوں کو دکھلاتی ہے اسی روشنی کا نام روح القدس ہے مگر یہ حقیقی روح القدس نہیں حقیقی روح القدس وہ ہے جو آسمان پر ہے یہ روح القدس اُس کا ظل ہے جو پاک سینوں اور دلوں اور دماغوں میں ہمیشہ کے لئے آباد ہو جاتا ہے اور ایک طرفہ العین کے لئے بھی དེ صادر ہوتے اس بات کا سبب کہ اقتداری معجزات اور نبیوں سے کسی وقت الگ ہو جانا عقیدہ رکھتے ہیں وہ لوگ باطل پر ہیں کہ جو روح القدس کا ولیوں اُن سے جدا نہیں ہوتا اور جو شخص تجویز کرتا ہے کہ یہ روح القدس کسی وقت اپنی تمام تاثیرات کے ساتھ ان سے جدا ہو جاتا ہے وہ شخص سراسر باطل پر ہے اور اپنے پر پُرظ ظلمت خیال سے خدا تعالیٰ کے مقدس برگزیدوں کی توہین کرتا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ حقیقی روح القدس تو اپنے مقام پر ہی رہتا ہے لیکن روح القدس کا سایہ جس کا نام مجاز اروح القدس ہی رکھا جاتا ہے اُن سینوں اور دلوں اور دماغوں اور تمام اعضا میں داخل ہوتا ہے جو مرتبہ بقا اور لقا کا پا کر اس لائق ٹھہر جاتے ہیں کہ اُن کی نہایت اصفی اور اجلی محبت پر