ایک غلطی کا اِزالہ — Page 479
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۷۵ نزول المسيح دیکھ لیا ہے اور یہ کہ کیونکر یقین کی آنکھ سے خدا کو دیکھا جاوے اس کا جواب کوئی مجھ سے سنے یا ۹۷ نہ سنے مگر میں یہی کہوں گا کہ اس یقین کے حاصل کرنے کا ذریعہ خدا کا زندہ کلام ہے جو زندہ نشان اپنے اندر اور ساتھ رکھتا ہے جب وہ آسمان پر سے اترتا ہے تو نئے سرے مردوں کو قبروں میں سے نکالتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ باوجود آنکھوں کے بینا ہونے کے تم آسمانی آفتاب کے محتاج ہو اسی طرح خدا شناسی کی بینائی محض اپنی اٹکلوں سے حاصل نہیں ہو سکتی وہ بھی ایک آفتاب کی محتاج ہے۔ اور وہ آفتاب بھی آسمان پر سے اپنی روشنی زمین پر نازل کرتا ہے یعنی خدا کا کلام ۔ کوئی معرفت خدا کے کلام کے بغیر کامل نہیں ہو سکتی ۔ خدا کا کلام بندہ اور خدا میں ایک دلالہ ہے وہ اترتا ہے اور خدا کا نور اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جس پر وہ اپنے پورے کرشمہ اور پوری تجلی اور پوری خدائی عظمت اور قدرت اور برہنہ کرشمہ کے ساتھ اترتا ہے اس کو وہ آسمان پر لے جاتا ہے۔ غرض خدا تک پہنچنے کے لئے بجز خدا تعالیٰ کے کلام کے اور کوئی سبیل نہیں۔ نظم کے شوی عاشق رخ یاری تا نه بر دل رخش کند کارے ہم چنین زان لیے دو گفتارے آن کند کا رہا کہ دیدارے لا جرم عشق دلبر خوش خو خیزد از گفتگو چو دیدن رو گفتگو را کشش بود بسیار بے سخن کم اثر کند دیدار ہر کہ ذوق کلام یافته است را ز این ره تمام یافته است زیر لب گفتگوئے جانا نے زندگی بخشدت بیک آنے دوزخی کز عذاب پر چون خم اصل آن هست لا يكلمهم دل نه گردد صفا نه خیز دهیم تا چو موسی نمیشوی تو کلیم ہست داروئے دل کلام خدا کے شوی مست جز بجام خدا تا نه او گفت خودانا الموجود عقدہ ہستیش کسے نہ کشود تا نشد مشعلی زغیب پدید از شب تار جہل کس نرسید تا نه خود را نمود خود دادار کس ندانست کوئے آن دلدار تا نه خود از بین یقین بخشید کس ز زندان ریب و شک فرهید هر چه باشد ز زهد و صدق و سداد بے یقین سست با شدش بنیاد گریقین نیست بر خدائے یگان از محالات قوت ایمان بے یقین دین و کیش بیهوده است بے یقین بیچ دل نیا سوده ست بے یقین و تجلیات یقین کس نہ رستہ زدام دیولعین بے یقین از گنه نه دست کسے دانم احوال شیخ و شاب بسے