ایک غلطی کا اِزالہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 822

ایک غلطی کا اِزالہ — Page 417

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۴۱۳ نزول المسيح حکم تو اس بات کا قائل ہے کہ عیسی ابن مریم دوبارہ آسمان سے واپس آئے گا مگر اس کے مقابل پر معتزلہ اور بعض صوفیہ کا یہ فرقہ ہے کہ دوبارہ آنا غلط ہے بلکہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور آنے والا اسی اُمت میں سے ہوگا ۔ اب بتلاؤ کہ میں نے کونسی زیادتی اور مخالفت اسلام کی۔ صرف یہ کیا کہ خدا سے وحی پاکر مسلمانوں کے دو عقیدوں میں سے ایک عقیدے کورڈ کر دیا اور اس کو مخالف قرآن اور مخالف اجماع صحابہ بتلایا اور دوسرے عقیدہ کی تصدیق کی اور اس کے موافق اپنے تئیں ظاہر کیا۔ کیا حکم کے لئے ضروری تھا کہ تمہارے کئی فرقوں میں سے صرف اہلحدیث کی بات مانتا یا صرف حنفیوں کی بات قبول کرتا اور باقی تمام فرقوں کے تمام اجتہادی عقائد کورڈ کر دیتا تو اس صورت میں تو تم ہی حکم ٹھہرے نہ وہ ۔ ہاں سچ ۔ طہرے نہ وہ ۔ ہاں سچ ہے کہ ہر ایک عقیدہ جب عادت میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کا چھوڑ نا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح جو مدت کے فوت ہو چکے آپ لوگوں کے خیال میں وہ اب تک بجسم عنصری آسمان پر بیٹھے ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ آسمان پر نہیں بلکہ آپ لوگوں کے دل پر بیٹھے ہیں اور پرانے عقیدوں کی وجہ سے ہر دم زبان پر نزول کر رہے ہیں ۔ تم سے پہلے یہودیوں کو بھی یہی بلا پیش آئی تھی کہ اُن کے نزدیک صحیح عقیدہ یہی تھا کہ الیاس آسمان سے نازل ہو گا تب مسیح آئے گا لیکن جب حضرت مسیح آئے اور الیاس آسمان سے نازل نہ ہوا تو یہودیوں نے تکذیب کا وہ شور مچایا کہ آپ لوگوں کے شور اور ان کے شور میں فرق کرنا مشکل ہے اور بڑے جوش سے حضرت عیسی سے یہودیوں نے سوال کیا کہ ابھی الیاس تو ﴿۳۶﴾ دوبارہ دنیا میں آیا نہیں تو تم کیونکر سچا مسیح ٹھہر سکتے ہو۔ تب انہوں نے جواب دیا کہ الیاس تم میں موجود ہے جو یوحنا نبی ہے یعنی یکی مگر کسی نے یہ جواب پسند نہ کیا اور آج تک حضرت عیسیٰ کو حاشیہ۔ یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث اُن کے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلا آیا کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آ گئے ۔ منہ