ایک غلطی کا اِزالہ — Page 396
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۹۲ نزول المسيح ۱۴ حالانکہ تمام گاؤں جانتا ہے کہ وہ دیوانہ گتے کے کاٹنے سے مرا تھا اور جیسا کہ معمول ہے سرکاری طور پر اس کی موت کا نقشہ طیار کیا گیا اور کتے کے کاٹنے کی تاریخ وغیرہ اس میں لکھی گئی پھر یہ کیسی پیسہ اخبار کی ایمانداری ہے کہ ایسے جھوٹوں کو جن سے گورنمنٹ پر بھی حملہ ہے اپنے اخبار میں شائع کیا گویا گورنمنٹ نے اپنے ملازموں کے ذریعہ سے عمد اطاعون کے کیس کو چھپایا اور اپنے نقشوں میں دیوانہ کتے سے مرنا درج کیا۔ مگر پیسہ اخبار نے گورنمنٹ کا یہ جھوٹ پکڑ لیا۔ پس جبکہ پیسہ اخبار کی یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ وہ بلا دھڑک گورنمنٹ کے تحقیق کردہ امور کے برخلاف جھوٹ بولتا ہے تو کس قدر وجود اس کا خطرناک ہے۔ اڈیٹروں کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ سچائی کو دنیا میں پھیلا ویں نہ جھوٹ کو ۔ اس لئے ہم بار بار کہتے ہیں کہ ایسے گندے اور ناپاک اخبار دنیا کو بجائے فائدہ کے نقصان پہنچاتے ہیں اور جھوٹ جو ایک نہایت پلید اور ناپاک چیز ہے اس کو دنیا میں رائج کرتے ہیں۔ ابھی ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری مخالفت کے جوش میں کہاں تک یہ شخص جھوٹ سے کام لے گا اور کس قدر فرضی طور پر نامردہ لوگوں کو طاعون سے مارے گا۔ اسی افترا کی قسم میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ تھو چوکیدار کی موت کو بھی طاعون سے لکھتا ہے حالانکہ ایک عرصہ ہوا کہ وہ غریب کچھ مدت تپ سے بیمار رہ کر بقضائے الہی فوت ہوا ہے چنانچہ سرکاری کتاب میں اس کی موت اور مولا چوکیدار کی موت کا باعث بخار ہی لکھا ہے۔ پھر کیا ممکن ہے کہ سرکار میں جھوٹی خبر دی گئی ۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ جیسا کہ ہمیشہ گرمی کی شدت کی وجہ سے بخار ہوتا ہے قادیان میں بھی بخار رہا ہے اور اندازہ کیا گیا ہے کہ ایک سو سے زیادہ لوگوں کو بخار ہوا ہو گا اور خود ایک دو دن مجھے اور ہمارے بچوں کو بھی بخار ہوا۔ مدرسہ کے بعض لوگوں کو بھی بخار ہوا اور عام طور پر گاؤں میں بہتوں کو بخار ہوا۔ اسی کثرت بخار کے سلسلہ میں چند آدمی بخار سے فوت بھی ہو گئے جن میں سے بعض چند ماہ کے بیمار تھے اور بعض تپ محرقہ سے فوت ہوئے اور جہاں تک ہمیں علم ہے ایسے آدمی دو یا تین سے زیادہ نہیں جو قریباً سو آدمی میں سے جو مبتلائے بخار تھے جانبر نہ ہو سکے ۔ اب کیا اس کو طاعون کہنا چاہیے؟ جائے شرم ہے کیا گرمی کے موسم میں اس سے پہلے کبھی بخار نہیں ہوئے بلکہ بعض برسوں میں جبکہ طاعون کا دنیا میں نام ونشان نہ تھا اسی موسم میں اسی گاؤں قادیان میں بعض لوگ تپ محرقہ سے تھیں تھیں کے قریب مر گئے تھے اب تو خدا کا