ایک غلطی کا اِزالہ — Page 311
روحانی خزائن جلد ۱۸ ٣٠٧ الهدى إلا قصص من الآيات وقشرة من الكتاب المبين۔ وتراه كدار مات اور نشانوں کی نسبت کتھا کہانیاں رہ گئی ہیں اور کتاب مبین سے نرا پوست اور چھلکا رہ گیا صاحبها۔ وقامت نوادبها ۔ وهدم جدرانها وزلزل بنيانها ۔ (۲) ہے۔ اور وہ اس گھر کی مانند ہے جس کا مالک مر گیا ہے اور بین کرنے والیاں اس پر نوحے فانظروا ماذا ترون طرق المداوات يا طوائف الأساة؟ أتجدون کر رہی ہیں اور اس کی دیواریں ڈھ گئیں اور عمارتیں کہ گئیں اور عمارتیں کپکپائی گئیں۔ لیں ۔ اب بتاؤ اے طبیبو تمہارے هؤلاء الأمراء۔ يدفعون تلك البلاء۔ أتتوقعون من هذه الملوك نزدیک علاج کا کیا طریق ہے۔ کیا تمہاری رائے میں یہ امراء اس بلا کو دفع کر سکتے ہیں۔ اور أنهم يُطهّرون حديقة الدين من تلك الشوك۔ أو تزعمون کیا تم امید کرتے ہو کہ یہ بادشاہ ان کانٹوں سے دین کے باغ کو پاک کر سکیں گے۔ یا تم خیال أن هذه الأمراض تبرأ من الدول الإسلامية وبجهدهم | کرتے ہو کہ یہ بیماریاں اسلامی سلطنتوں اور ان کی معلوم کوشش سے اچھی ہو جائیں گی۔ المعلوم۔ كلا بل هو أمر أعسر من أن تتوقعوا الرطب الجني نہیں نہیں یہ بات اس سے بھی زیادہ دشوار ہے کہ تم تھوہر سے تازہ کھجوروں کی امید رکھو من الزقوم ۔ وكيف وهم في غشية الوجوم۔ وكيف يرفعون اور ان سے کیا توقع کی جائے اور وہ تو بڑے پتھروں کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور رأسهم وهم تحت ألوف من الهموم۔ والحق والحق أقول ان هذه وہ کیونکر سر اٹھائیں اور وہ ہزاروں غموں کے نیچے آئے ہوئے ہیں۔ میں آفات ليس دفعها في وسع الملوك والأمراء۔ أيهدى الأعمى أعمى سچ سچ کہتا ہوں کہ ان آفتوں کا دفع کرنا بادشاہوں اور امیروں کا مقدور نہیں۔ آخر يا ذوى الدهاء ؟ ثم إن هذه الملوك وإن کیا کبھی اندھا اندھے کو راہ بتا سکتا ہے۔اے دانشمندو۔ علاوہ بریں اگر چہ یہ بادشاہ