ایک غلطی کا اِزالہ — Page 263
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۵۹ الهدى يسقط ميمه ويبقى على صورة النار۔ وكنا هزمنا العدا۔ وفرغنا من اس کا میم گر کرنری نار کی شکل رہ جائے ۔ اور ہم تو مدت سے دشمنوں کو بھگا کر لڑائی جھگڑے الوغى۔ ونابلنا فكان لنا العُلى۔ وبذل الجهد كل من رمى ۔ حتى سے فارغ ہو بیٹھے تھے اور ہمیں ہر ایک جنگ میں غلبہ میسر آیا اور ہر ایک جنگ کرنے والا اپنی نثلت الكنائن۔ وفاء ت السكائن۔ وركدت الزعازع۔ وكف پوری طاقت ہمارے مقابلہ میں خرچ کر چکا تھا۔ یہاں تک نوبت پہنچ گئی تھی کہ ترکش خالی المتنازع ۔ وجعل الله الهزيمة على كل من باري۔ وأهلك من ہو گئے تھے اور بالکل آرام چین ہو گیا تھا۔ سب جھگڑے ٹھنڈے پڑ گئے اور جھگڑنے والے مارى ۔ فالآن أُحيى اللئام بعد الممات۔ وشد المنار عضدهم ہٹ ہٹا گئے تھے اور سب جھگڑنے والوں کو خدا نے بھگا دیا اور مار ڈالا تھا۔ اب وہ سفلے پھر موت بالخزعبيلات۔ فأرى أنهم يتصلّفون ويستأنفون القتال۔ ويبغون (١٥) کے بعد جلائے گئے اور منار نے اپنی نکمی باتوں سے انہیں دلیر اور پکا کر دیا۔ اب میں دیا ب میں دیکھتا ہوں کہ النضال۔ ويخدعون الجهال ورجعوا إلى شرهم و زادوا وہ پھر لاف گزاف مارنے لگے اور لڑائی کو تازہ کرنا چاہتے ہیں اور اب لڑائی چاہتے اور جاہلوں کو ضدا۔ بما جاء المنار شيئا إذًا ۔ وجاز عن القصد جدا ۔ فأكبر دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ پھر اپنے شر کی طرف لوٹ چلے ہیں اور منار کی اس نا پاک بات اور کجروی كلمه حزب من العمين وأين جهابذة الكلام كالسابقين۔ کی وجہ سے ضد میں بڑھ چلے ہیں۔ چنانچہ کچھ اندھوں کو منار کی باتیں بھلی لگیں ہیں اور پہلوں کی طرح بل يتبعون كل ما يسمعون من الحاسدين المفسدين۔ وليس فيهم کلام کے پرکھنے والے اور جاننے والے کہاں بلکہ یہ لوگ تو جو کچھ حاسدوں مفسدوں سے سن پاتے ذواق العبارات المهذبة۔ ولا الأعناق للوصول إلى ہیں اس کے پیچھے ہو جاتے ہیں۔ ان میں اعلیٰ درجہ عبارتوں کے سمجھنے کا ذوق کہاں۔ اور عمدہ