ایک غلطی کا اِزالہ — Page 217
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۱۳ ایک غلطی کا ازالہ کے لئے یہ ضرور نہیں کہ بروزی انسان صاحب بروز کا بیٹا یا نواسہ ہو ہاں یہ ضرور ہے کہ روحانیت شخه کے تعلقات کے لحاظ سے شخص مورد بروز صاحب بروز میں سے نکلا ہوا ہو اور ازل سے باہمی کشش اور باہمی تعلق درمیان ہو۔ سو ہو۔ سو یہ خیال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان معرفت کے سراسر خلاف ہے کہ آپ اس بیان کو تو چھوڑ دیں جو اظہار مفہوم بروز کے لئے ضروری ہے اور یہ امر ظاہر کرنا شروع کر دیں کہ وہ میرا نواسہ ہوگا بھلا نواسہ ہونے سے بروز کو کیا تعلق ۔ اور اگر بروز کے لئے یہ تعلق ضروری تھا تو فقط نواسہ ہونے کی ایک ناقص نسبت کیوں اختیار کی گئی بیٹا ہونا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی اپنی کا کلام پاک میں آنحضرت صلی صلی اللہ اللہ علیہ وسلم کے کسی کے باپ ہونے کی نفی کی ہے لیکن بروز کی خبر دی ہے۔ اگر بروز صحیح نہ ہوتا تو پھر آیت وَاخَرِينَ مِنْهُمُ میں اُس موعود کے رفیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کیوں ٹھہرتے اور دکھا کر غیر مذہب والوں کو اسلام کی طرف جھکا دے گی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اس سے بھی میں مراد ہوں ورنہ اس سلمان پر دو صلح کی پیشگوئی صادق نہیں آتی ۔ اور میں خدا سے وحی پا کر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بموجب اُس حدیث کے جو کنز العمال میں درج ہے بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں اور حضرت فاطمہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں چنانچہ یہ کشف براہین احمدیہ میں موجود ہے۔ منہ ستين فيه حاشيه نوٹ از ناشر ۔ براہین احمدیہ میں یہ کشف بایں الفاظ درج ہے: ” اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے سو اس میں سر یہی ہے کہ افاضہ انوار الہی میں محبت اہل بیت کو بھی بہت عظیم دخل ہے اور جو شخص حضرت احدیت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہیں طیبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث کٹھہرتا ہے۔ اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت جس سے جو خفیف سے نشاء سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے ایک دفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے یعنی جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔ پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے جس کو علی نے تالیف کیا ہے اور اب علی وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے ۔ فالحمد لله علی ذالک۔ (براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۹۹ حاشیه در حاشیه نمبر۳)