ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 476
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۶ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات روحانی تربیت کا کام بہت ہی کم ہوتا ہے اور قوت منورہ اُس کے قلب کی بغایت درجہ گھٹ جاتی ہے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اسی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام اپنی روحانی تربیت میں بہت کمزور نکلے جیسا کہ پادری بٹلر صاحب جو باعتبار عہدہ و نیز بوجہ لیاقت ذاتی کے ایک ممتاز آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ وہ نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ مسیح کی روحانی تربیت بہت ضعیف اور کمزور ثابت ہوتی ہے اور اُن کے صحبت یافتہ لوگ جو حواریوں کے نام سے موسوم تھے اپنے روحانی تربیت یافتہ ہونے میں اور انسانی قوتوں کی پوری تکمیل سے کوئی اعلیٰ درجہ ۲۵ کا نمونہ دکھلا نہ سکے ۔ ( کاش حضرت مسیح نے اپنے ظاہری مغل سلب امراض کی طرف کم توجہ کی ہوتی اور وہی توجہ اپنے حواریوں کی باطنی کمزوریوں اور بیماریوں پر ڈالتے خاص کر یہودا اسکر یوطی پر ) اس جگہ صاحب موصوف یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے صحابہ کے مقابلہ پر حواریوں کی روحانی تربیت یابی اور دینی استقامت کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں افسوس کے ساتھ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کے حواری روحانی طور پر تربیت پذیر ہونے میں نہایت ہی کچے اور پیچھے رہے ہوئے تھے اور ان کے دماغی اور دلی قومی کو حضرت مسیح کی صحبت نے کوئی ایسی توسیع نہیں بخشی تھی جو صحابہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مقابل تعریف ہو سکے بلکہ حواریوں کی قدم قدم میں بزدلی ، سست اعتقادی ، تنگدلی ، دنیا طلبی ، بیوفائی ثابت ہوتی تھی مگر صحابہ نبی عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے وہ صدق وفا ظہور میں آیا جس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے پیروؤں میں ملنا مشکل ہے سو یہ اس روحانی تربیت کا جو کامل طور پر ہوئی تھی اثر تھا جس نے اُن کو بکلی مبدل کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیا تھا۔ اسی طرح بہت سے دانشمند انگریزوں نے حال میں ایسی کتابیں تالیف کی ہیں کہ جن میں اُنہوں نے اقرار کر لیا ہے کہ اگر ہم نبی عربی