ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 459
روحانی خزائن جلد ۴ ۴۵۹ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات اور یادر ہے کہ ایسا لا نافیہ حضرت مسیح کے کلام میں بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ ہے۔ فریسیسوں نے مسیح کے نشانات طلب کئے اُس نے آہ کھینچ کر کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں میں تم سے سچ کہتا ہوں اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان نہیں دیا جائے گا۔ دیکھو مرقس ۸ باب ۱۱۔ اب دیکھو کیسا حضرت مسیح نے صفائی سے انکار کر دیا ہے اگر غور فرمائیں تو آپ کا اعتراض اس اعتراض کے آگے کچھ بھی چیز نہیں کیونکہ آپ نے فقط کفار کا انکار پیش کیا اور وہ بھی نہ عام انکار بلکہ خاص نشانا انکار بلکہ خاص نشانات کے بارے میں اور ظاہر ہے کہ دشمن کا انکار بکلی قابل اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ دشمن خلاف واقعہ بھی کہہ جاتا ہے مگر حضرت مسیح تو آپ اپنے منہ سے معجزات کے دکھلانے سے انکار کر رہے ہیں اور نفی صدور معجزات کو زمانہ کے ساتھ متعلق کر دیا ہے اور فرماتے ہیں کہ اس زمانے کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا پس اس سے بڑھ کر انکار معجزات کے بارے میں اور کون سا بیان واضح ہو سکتا ہے اور اس لا نافیہ سے بڑھ کر اور کونسالا نافیہ ہوگا۔ پھر دوسری آیت کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں بھی سیاق سباق کی آیتوں سے بالکل الگ کر کے اس پر اعتراض وارد کر دیا ہے مگر اصل آیت اور اس کے متعلقات پر نظر ڈالنے سے ہر ایک منصف بصیر سمجھ سکتا ہے کہ آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں ہے کہ جو انکار معجزات پر دلالت کرتا ہو بلکہ تمام الفاظ صاف بتلا رہے ہیں کہ ضرور معجزات ظہور میں آئے۔ چنانچہ وہ آیت معہ اس کے دیگر آیات متعلقہ کے یہ ہے۔ وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا ﴿۱۳﴾ عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُورًا - وَمَا مَنَعَنَا أَنْ تُرْسِلَ