ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 455
روحانی خزائن جلده ۴۵۵ ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات عذاب ضرور آئے گا اور ایسے وقت میں آئے گا کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی ۔ اب انصاف سے دیکھو! کہ اس آیت میں کہاں معجزات کا انکار پایا جاتا ہے یہ آیتیں تو با واز بلند پکار رہی ہیں کہ کفار نے ہ<mark>لا</mark>کت اور عذاب کا نشان مانگا تھا۔ سواول انہیں کہا گیا کہ دیکھو تم میں زندگی بخش نشان موجود ہے یعنی قرآن جو تم پر وارد ہو کر تمہیں ہ<mark>لا</mark>ک کرنا نہیں چاہتا بلکہ ہمیشہ کی حیات بخشتا ہے مگر جب عذاب کا نشان تم پر وارد ہوا تو وہ تمہیں ہ<mark>لا</mark>ک کرے گا۔ پس کیوں تم ناحق اپنا مرنا ہی چاہتے ہو اور اگر تم عذاب ہی مانگتے ہو تو یاد رکھو کہ وہ بھی جلد آئے گا۔ پس اللہ جل شانہ نے ان آیات میں عذاب کے نشان کا وعدہ دیا اور قرآن شریف میں جو رحمت کے نشان ہیں اور دلوں پر وارد ہو کر اپنا خارق عادت اثر ان پر ظاہر کرتے ہیں ان کی طرف توجہ د<mark>لا</mark>ئی۔ پر معترض کا یہ گمان کہ اس آیت میں <mark>لا</mark> نافیہ جنس معجزات کی <mark>نفی</mark> پر د<mark>لا</mark>لت کرتا ہے۔ جس سے کل معجزات کی <mark>نفی</mark> <mark>لا</mark>زم آتی ہے۔ محض صرف ونحو سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔ یادرکھنا چاہیے کہ <mark>نفی</mark> کا اثر اسی حد تک محدود ہوتا ہے جو متکلم کے ارادہ میں متعین ہوتی ہے۔ خواہ وہ ارادہ تصریحا بیان کیا گیا ہو یا اشارہ ۔ مث<mark>لا</mark> کوئی کہے کہ اب سردی کا نام ونشان باقی نہیں رہا، تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے بلدہ کی حالت موجودہ کے موافق کہا ہے اور گو اس نے بظاہر اپنے شہر کا نام بھی نہیں لیا مگر اس کے ک<mark>لا</mark>م سے یہ سمجھنا کہ اس کا یہ دعویٰ ہے کہ کل کو ہستانی ملکوں سے بھی سردی جاتی رہی اور سب جگہ سخت اور تیز دھوپ پڑنے لگی اور اس کی دلیل یہ پیش کرنا کہ جس <mark>لا</mark> کو اس نے استعمال کیا ہے وہ <mark>نفی</mark> جنس کا <mark>لا</mark> ہے۔ جس کا تمام جہان پر اثر پڑنا چاہئے ، درست نہیں۔ مکہ کے مغلوب بت پرست جنہوں نے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آنجناب کے معجزات کو معجزہ کر کے مان لیا اور جو کفر کے زمانہ میں بھی صرف خشک منکر نہیں تھے بلکہ