ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 348
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۴۸ آسمانی فیصلہ نہیں ہوتی اور قلم ازل مبرم طور پر ان کے مخالف چلی ہوئی ہوتی ہے سو وہ لوگ اپنی ناکامی کی وجہ سے مومن کامل کی اس علامت قبولیت کو شناخت نہیں کر سکتے بلکہ اور بھی شک میں پڑ جاتے ہیں اور اپنے محروم رہنے کی وجہ سے مومن کامل کے کمالات قبولیت پر مطلع نہیں ہو سکتے اور اگر چہ مومن کامل کا خدائے تعالیٰ کے نزدیک بڑا درجہ اور مرتبہ ہوتا ہے اور اس کی خاطر سے اور اس کی تضرع اور دعا سے بڑے بڑے پیچیدہ کام درست کئے جاتے ہیں اور بعض ایسی تقدیریں جو تقدیر مبرم کے مشابہ ہوں بدلائی بھی جاتی ہیں مگر جو تقدیر حقیقی اور واقعی طور پر مبرم ہے وہ مومن کامل کی دعاؤں سے ہرگز بدلائی نہیں جاتی ۔ اگر چہ وہ مومن کامل نبی یا رسول کا ہی درجہ رکھتا ہو۔ غرض نسبتی طور پر مومن کامل ان چاروں علامتوں میں اپنے غیر سے یہ بداہت ممیز ہوتا ہے اگر چہ دائمی طور پر قادر اور کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پس جب کہ یہ امر ثابت ہو چکا کہ نسبتی طور پر حقیقی اور کامل مومن کو کثرت بشارات اور کثرت استجابت دعا اور کثرت انکشاف مغیبات اور کثرت انکشاف معارف قرآنی سے وافر حصہ ہے تو مومن کامل اور اس کے غیر کے آزمانے کیلئے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہ ہوگا کہ بذریعہ مقابلہ ان دونوں کو جانچا اور پر کھا جاوے یعنی اگر یہ امر لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہو کہ دو شخصوں میں سے کون عند اللہ مومن کامل اور کون اس درجہ سے گرا ہوا ہے تو انہیں چاروں علامتوں کے ساتھ مقابلہ ہونا چاہئے یعنی ان چاروں علامتوں کو محک اور معیار ٹھہرا کر مقابلہ کے وقت دیکھا جاوے کہ اس معیار اور ترازو کی رو سے کون شخص پورا اترا ہے اور کس کی حالت میں کمی اور نقصان ہے۔ اب خلق اللہ گواہ رہے کہ میں خالصاً لله اور اظهاراً للحق اس مقابلہ کو بدل و جان منظور کرتا ہوں اور مقابلہ کیلئے جو صاحب میرے سامنے آنا چاہیں ان میں سب سے اول نمبر میاں نذیر حسین دہلوی کا ہے جنہوں نے پچاس سال سے زیادہ قرآن اور حدیث پڑھا کر پھر اپنے علم اور عمل کا یہ نمونہ دکھایا کہ بلا تفتیش و تحقیق اس عاجز کے کفر پر فتویٰ لکھ دیا اور ہزار ہا وحشی طبع لوگوں کو بدظن کر کے ان سے گندی گالیاں دلائیں اور بٹالوی کو ایک مجنون درندہ کی طرح تکفیر اور لعنت کی جھاگ منہ سے نکالنے کیلئے چھوڑ دیا اور آپ مومن کامل اور شیخ الکل اور شیخ العرب والعجم بن بیٹھے لہٰذا مقابلہ کیلئے سب سے اول انہیں کو دعوت کی جاتی ہے