ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 345
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۴۵ آسمانی فیصلہ مقابل پر جو مجھے آسمان سے عطا کی گئی ہے ان سفلی ملاؤں کو سراسر بے بھر سمجھتا ہوں اور بخدا ایک مرے ہوئے کیڑے کے برابر بھی میں انہیں خیال نہیں کرتا کیا کوئی زندہ مردوں سے ڈرا کرتا ہے۔ یقیناً سمجھو کہ علم دین ایک آسمانی بھید ہے اور وہی کما حقہ آسمانی بھید جانتا ہے جو آسمان سے فیض پاتا ہے جو خدائے تعالیٰ تک پہنچتا ہے وہی اس کی کلام کے اسرار عمیقہ تک بھی پہنچتا ہے جو پوری روشنی میں نشست رکھتا ہے وہی ہے جو پوری بصیرت بھی رکھتا ہے۔ ہاں اگر یہ کہا جاتا کہ میں ان کی گندی گالیوں سے ڈر گیا اور ان کی نجاست سے بھری ہوئی باتوں سے میں ترساں ہوا تو شاید کسی قدر سچ بھی ہوتا کیونکہ ہمیشہ شرفاء بد گفتار لوگوں سے ڈرا کرتے ہیں اور مہذب لوگ گندی زبان والوں سے پر ہیز کر جاتے ہیں۔ شریف از سفله نمی ترسد بلکه از سفلگی او می ترسد ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ میاں نذیر حسین کی پردہ دری کرے اور ان کی آواز دہل کی حقیقت لوگوں پر ظاہر کر دیوے سو بالغ نظر جانتے ہیں کہ وہ خواستہ ایزدی پورا ہو گیا اور نذیر حسین کے تقویٰ اور خدا پرستی اور علم اور معرفت کی ساری قلعی کھل گئی اور ترک تقویٰ کی شامت سے ایک ذلت ان کو پہنچ گئی مگر ایک اور ذلت ابھی باقی ہے جوان کیلئے اور ان کے ہم خیال لوگوں کے لئے طیار ہے جس کا ذکر ہم نیچے کرتے ہیں۔ الها الله تعالى ای خدا ای مالک ارض و سما امر صیل از جناب خود نما 上 ای پناه حزب خود در هر بلا ای تیم و دست گیرد رهنما ایه در دست تو فصل است تنها نسخت شوری اوفتا داند زمین تا شود قطع نزاع و فتنه ها اگ کرشمہ اپنی قدرت کا دکرا لگادی تہ کو سب قدرت کے امورب الورا رحم کن برخلق امی جان آذین آسمانی فیصلہ می پرستی کا مٹا جاتا ہے نام اک نشان د اهلا که موجت تمام قبل اس کے جو میں آسمانی فیصلہ کا ذکر کروں صفائی بیان کیلئے اس قدر لکھنا ضرور ہے کہ یہ بات ظاہر ہے کہ جو لوگ خدائے تعالیٰ کے نزدیک فی الحقیقت مومن ہیں اور جن کو خدائے تعالیٰ نے خاص اپنے لئے چن لیا ہے اور اپنے ہاتھ سے صاف کیا ہے اور اپنے برگزیدہ گروہ میں جگہ دے دی ہے