ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 342
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۴۲ آسمانی فیصلہ اپنا جی خوش کر لیں تو مجھے کیوں بُرا ماننا چاہئے بلکہ اگر رحم کی نظر سے دیکھا جائے تو ان کا یہ حق بھی ہے کیونکہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ انھوں نے اس عاجز کے مقابل پر شکست فاش کھا کر بہت کچھ غم و غصہ اٹھایا ہے اور ان کے دل پر اس اخیر عمر میں سخت صدمہ خجالت اور شرمندگی کا پہنچ گیا ہے اب اگر غم غلط کرنے کیلئے اس قدر بھی نہ کرتے کہ خلاف واقع فتح کا نقارہ بجاتے تو پیرانہ سالی کا ضعیف دل اتنے بڑے صدمہ کی برداشت کیونکر کر سکتا سو شاید انہوں نے جان رکھنا ا فرض سمجھ کر اتنا بڑا جھوٹ اپنے لئے روا رکھ لیا اور مجھے اب بھی اس بات کی ضرورت نہ تھی کہ میں اس حق الامر کا اظہار کر کے ان کے ملمع خوشی کو کالعدم کر دیتا کیونکہ فتح و شکست پر نظر رکھنا ایک محجوبانہ خیال ہے اور سچائی کے عاشق سچائی کو ہی چاہتے ہیں خواہ وہ فتح کی صورت میں حاصل ہو جائے یا شکست کے پیرا یہ میں ملے مگر چونکہ لوگ ایسی غلط اور مخالفانہ تحریروں سے دھوکے میں پڑ جاتے ہیں اور خلاف واقعہ شہرت کی وجہ سے متاثر ہو کر ان تحریروں کو صحیح اور با وقعت سمجھنے لگتے ہیں اور پھر اس کا بداثر لوگوں کے دین کو سخت نقصان پہنچاتا ہے اس لئے اصل حقیقت کا ظاہر کرنا ایک حق لازم اور دین واجب میرے پر تھا جو ادا کرنے کے بغیر ساقط نہیں ہو سکتا تھا مگر میں اس بات سے تو نادم ہوں کہ میاں صاحب کی پیرانہ سالی کی حالت میں ان کے دوبارہ غم تازہ کرنے کا موجب ہوا ہوں ۔ اس جگہ یہ بیان کرنا بھی بے محل نہیں کہ میاں صاحب کے ناحق کے ظلموں سے جو انہوں نے اس عاجز کی نسبت روا ر کھے ایک یہ بھی ہے کہ بٹالوی کو انھوں نے بکلی کھلا چھوڑ دیا اور اس بات پر راضی ہو گئے کہ وہ ہر ایک طرح کی گالیوں اور لعن طعن سے اس عاجز کی آبرو پر دانت تیز کرے سو وہ میاں صاحب کا منشاء پا کر حد سے گذر گیا اور آیت کریمہ لَا يُحِبُّ اللهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ ل کی کچھ بھی پروانہ کر کے ایسی گندی گالیوں پر آ گیا کہ چوہڑوں چماروں کے بھی کان کاٹے یہاں تک کہ اس پاکیزہ سرشت نے صد ہا لوگوں کے رو برو دہلی کی جامع مسجد میں اس عاجز کو خش گالیاں دیں چنانچہ گالیوں کے سننے والوں میں سے شیخ حامد علی میر املازم بھی ہے جو اس وقت موجود تھا جس کی اور لوگوں نے بھی تصدیق کی ایسا ہی اس بزرگ نے پھلور کے اسٹیشن پر ایک جماعت کے رو برواس عاجز کی نسبت کہا کہ وہ ا النساء : ۱۴۹