ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 329
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۲۹ الحق مباحثہ دہلی فرمایا ہو۔ میرے علم ناقص کے رو سے یہ منصب اس زمانہ میں سوائے حضرت مرزا صاحب کے اور کسی کو حاصل نہیں ہے۔ کلکتہ سے پنجاب تک اور دامن کوہ ہمالہ سے بمبئی تک اس احقر نے سفر کیا اور اکثر علماء سے ملاقاتیں ہوئیں لیکن جو بات باوجود نہ ہونے ملاقات کے اس مسافت بعیدہ پر میں نے مرزا صاحب میں پائی وہ کسی میں نہیں پائی ۔ ورنہ یہ عاجز غیر مقلدوں میں دم بھرنے والا کیونکر اول حضرت کا ارادتمند ہو جاتا۔۔ اور امتحان بغیر تو یہ آپ کا غلام قائل نہیں ہے قبلہ کسی شیخ و شاب کا کبھی آپ نے نہ سنا ہوگا کہ حضرت مرزا صاحب کے یہاں مسلم الثبوت کا درس ہو رہا ہے یا مطول پڑھائی جاتی ہے یا ملا حسن حمد اللہ کی تعلیم ہو رہی ہے لیکن باوجود اس کے تمام علمائے ہندوستان وغیرہ کو جو ان علوم میں ماہر واقف ہیں اُن کے مقابلہ کے واسطے بلایا جاتا ہے کوئی عالم اُس کا مقابلہ نہیں کرتا اور نہ کر سکے گا۔ مولوی محمد حسین جوان علوم میں ایک فاضل اجل شمار کیا جاتا ہے اُس نے جو حضرت مجد دسے مقابلہ اور مباحثہ کیا آپ نے سنا ہو گا کہ کیا نتیجہ اُس کا حاصل ہوا جو اسرار اور معارف حضرت مجدد نے اس مباحثہ میں بغیر کتاب اور سامان علم کے بیان کئے ہیں وہ مصداق ما لا عين رأت و لا اذن سمعت کے ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب کی تقریر میں بجز مضامین علوم رسمیہ کے (وہ بھی صحیح طور پر نہیں ) کوئی دوسرا مضمون ہی نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی محمد حسین ایک پکے مقلد ہیں اور حضرت ایک پکے محقق پھر کیا اہل بصیرت کے نزدیک یہی مباحثہ ایک بڑا نشان آسمانی حضرت مجدد کی مجددیت اور محدثیت کا نہیں ہے اور اگر کسی صاحب کی نظر میں بعض کلام حضرت مجدد کا بظاہر خلاف معلوم ہو تو اول تو نفس الامر میں وہ خلاف اصول صحیحہ کے ہی نہیں اور پھر ثانیا کیا آپ ۱۹۴) یہ نہیں جانتے کہ تمام علوم رسمیہ میں بعض مسائل ایسے بھی ہیں جو باہم مخالف ہیں اور ان میں