ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 267

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۶۷ الحق مباحثہ دہلی مولوی محمد بشیر صاحب کے پر چہ ثانی پر سرسری نظر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الحمد لوليه والصلوة على نبيه - اما بعد واضح خاطر عاطر ناظرین ہو کہ پر چہائے ثلاث محررہ مولوی صاحب کا جواب جو حضرت اقدس مرزا صاحب سلمہ نے اپنے پرچوں میں دیا ہے وہ ایسا کافی وشافی ووافی ہے کہ ہوتے اسکے اب کسی کے جواب کی حاجت نہیں رہی۔ ناظرین جب انصاف سے ملاحظہ فرماویں گے تو یہ امر ان پر خود بخود واضح ہو جاوے گا۔ کسی کے جتلانے اور بتلانے کی کیا حاجت ہے۔ مثل مشہور ہے مشک آنست که خود بوید نه که عطار گوید لیکن چونکہ مولوی صاحب نے بھوپال میں واپس تشریف لا کر اپنی فتح یابی کا اعلان کیا اور اس پر طرہ یہ ہوا کہ مکر رسہ کر ر اس ہیچمد ان سے درخواست مباحثہ فرمائی گئی اور مجالس وعظ میں ھل من مبارز کا ڈنکا بجایا گیا اور اس عاجز ہیچمد ان کا نام لے لے کر طلب مباحثہ کیا گیا تو اس عاجز پر بھی واجب ہو گیا کہ مولانا صاحب کے امر واجب الاذعان کی اطاعت کرے اور مولوی صاحب کی فتح یابی پر کچھ نظر کرے کہ فی الحقیقت وہ فتح یابی ہے یا محض آب سرابی ہی ہے اس میں دونوں امر مذکورہ حاصل ہوتے ہیں ۔ چہ خوش بود که برآید بیک کرشمہ دوکار ۔ لہذا مولوی صاحب کے پرچہ ثانی پر کچھ اند کے نظر کرتا ہوں ۔ قولہ واضح ہو کہ جناب مرزا صاحب نے بہت امور کا جواب اپنے پرچہ میں نہیں دیا الخ ۔ اقول حضرت اقدس مرزا صاحب نے آپ کے مضمون کا جواب ایسا کافی وشافی دیا ہے کہ اس سے بڑھ کر بجر طوالت پر ملامت کے اور کچھ متصور نہیں۔ ناظرین صورت الحال کو دیکھ کر خود بخود انصاف فرمالیویں گے۔ مثل مشہور ہے کہ اصدق الـمـقـال ما نطقت به صورة الحال اور آپ کی ابحاث ثلاثہ میں جو اصل اور عمدہ بحث تھی یعنے ۱۳۷