ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 261

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۶۱ الحق مباحثہ دہلی بعد نزوله سبع سنين ومازلت أتعجب منه مع مزيد حفظه و اتقانه و جمعه ۱۳۱ لـلـمـعـقـول والمنقول حتى رأيته في مرقاه الصعود رجع عن ذلك انتهى اور حسین ابن الفضل سے جو یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وفي هذه الآية نص في انه عليه الصلوة والسلام سينزل الى الارض ۔ اگر نص سے مراد وہی نص ہے جو مصطلح اہلِ اصول ہے تو آپ ہی فرماویں کہ کلام فی الکهولت واسطے نزول من السماء بجسده العنصري کے کیونکر نص ہو گیا ۔ اور اگر نص سے کچھ اور مراد ہے تو بیان ہو اس میں نظر کی جاوے گی ۔ اور پھر یہ گذارش ہے کہ جناب والا نے آغاز پر چہ اوّل میں یہ اقرار و عہد کیا ہے کہ اس مباحثہ میں بحث صعود ونزول وغیرہ کا خلط نہ کیا جاویگا۔ پھر یہاں پر اس اقرار و عہد کا نقض آپکی جانب سے کیوں ہوا ۔ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا لے ثالثا کیا ایسی پیشین گوئیوں کی حقیقت کما ینبغی ایسے ہی اجتہادات اور اقوال علماء سے قبل از وقوع محقق طور پر اور قطعی و یقینی معلوم ہو سکتی ہے۔ جیسے اقوال کہ جناب نے اس دلیل دوم میں بیان فرمائے ہیں۔ نہیں نہیں مجھ کو خوب یاد آیا مولا نا صاحب تو خود اس دلیل دوم کی نسبت فرما چکے ہیں کہ یہ دلیل فی نفسم قطعية الدلالت حیات مسیح پر نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہاں پر ایک استفسار باقی رہا وہ یہ ہے کہ جناب والا یہ بھی فرماتے ہیں کہ ( مگر بانضمام آیہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ قطعية الدلالت ہو جاتی ہے ) اب استفسار یہ ہے کہ اصول حدیث کے رُو سے صحیح لذاته و صحيح لغيره ياحسن لذاته و حسن لغيره - تو بالضرور ایک اصطلاح مقررہ اصول حدیث کی ہے ۔ ا ہے ۔ شائد اسی بناء پر جناب نے قطعی الدلالت کی دو قسمیں ارشاد فرمائیں اول قطعية الدلالت فى نفسه - دوم قطعية الدلالت لغيره - یہ اصطلاح یا علم مناظرہ کی ہوگی یا شائد علم اصول فقہ کی ہو۔ لہذا گذارش ہے کہ جس کتاب علم مناظرہ یا اصول فقہ میں دلیل کی یہ دونوں قسمیں لکھی ہوں بہ صحیح نقل ارشاد فرمائی جاویں۔ کیونکہ ہیچید ان کو یہ اصطلاح نہیں معلوم ۔ نظار نے تو تعریف دلیل کی سیکھی ہے ی ہے۔ والدليل هو المركب من قضيتين للتأدى الى مجهول نظری ۔ اور بعض نے دیکھی ہے ما يلزم من العلم به العلم بشيء آخر يا ما يلزم من التصديق بشيء آخر بطريق الاكتساب ۔ رشیدیہ میں لکھا ہے فان حمل ذلك التعريف على تعريف الدليل القطعي البين الانتاج بنی اسرائیل : ۳۵ ۲ النساء : ۱۶۰ کے