ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 248

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۴۸ الحق مباحثہ دہلی ۱۱۸ لاویں - قال الله تعالى وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ ءَ أَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشُّهِدِينَ - فَمَنْ تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ لے ۔ مولانا صاحب یہی گر تھا کہ حضرت میاں صاحب مد ظلہ اور محمد حسین نے جناب والا کو بہت فہمائیش کی کہ یہ آیت مطلوب ، میں قطعی الدلالت نہیں اس آیت کو آپ بمقابل مرزا صاحب ہرگز پیش نہ کریں کیونکہ یہ دونوں صاحب اس آیہ کے نشیب و فراز سے واقف تھے مگر جناب نے ان کی فہمائیش کو قبول نہ فرمایا اور تفسیر ابن کثیر پر تکیہ کر لیا۔ آپ کے شان محققی سے یہ امر نہایت بعید ہے۔ بحث لام تاکید با نون تاکید ثقیله از ہری وغیرہ نے تصریح میں تصریح کی ہے کہ لام تاکید کا حال کے واسطے آتا ہے۔ اب تسلیم کیا که فقط نون تا کید صرف استقبال کے واسطے ہے لیکن جب کہ کسی صیغہ میں لام تاکید بھی ہو۔ جو حال کے واسطے آتا ہے اور نون تاکید بھی ہو۔ چنانچہ ما نحن فيه میں ہے تو وہاں پر خالص استقبال بالضرور ہونے کی کیا وجہ ۔ اس کی کوئی دلیل مولوی صاحب نے نحو سے ارشاد نہیں فرمائی۔ اور تقریب دلیل محض نا تمام رہی ہے۔ یہ مانا کہ صرف نون تاکید استقبال کے واسطے نحو میں لکھا ہے۔ امر نہی ۔ استفہام یمنی ۔ عرض وغیرہ ان میں صرف نون تاکید ہوتا ہے۔ بغیر لام تاکید کے۔ پس ان صیغوں میں صرف استقبال ضرور مراد ہو سکتا ہے۔ لیکن جس صیغہ میں لام تاکید بھی ہو اور نون تاکید بھی اس میں خالص ہونے استقبال کی کیا دلیل ہے۔ شاید مولوی صاحب نے ازہری کی اس عبارت سے یہ بات سمجھی ہے کہ لانهما تخلصان مدخولهما للاستقبال۔ ہم کہتے ہیں کہ یہاں پر استقبال سے صرف صیغہ استقبال مراد ہے جس کی نسبت السنہ اطفال پر جاری ہے کہ صیغہ حال ہمچو صیغہ استقبال است اور یہ بات خود از ہری کی عبارت سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ذلک ینافی الماضی اگر مراد از ہری کی خالص زمانہ استقبال ہوتی تو کہتا کہ وذلك ينافى الماضى والحال اور اسی واسطے قسم کے جواب مثبت میں کوئی شرط زمانہ استقبال کی نہیں رہتی صرف صلاحیت تامہ فعلی کے واسطے دخول نون کی تمام کتب نحو میں لکھی ہے آل عمران: ۸۲-۸۳