ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 246
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۴۶ الحق مباحثہ دہلی علیہ وسلم (روحی فداه) شهید و گواہ ہوں گے ۔ قال الله تعالی وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا" واخرج احمد والبخاري والترمذى والنسائي وغيرهم عن ابي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يدعى نوح يوم القيامة فيقال له هل بلغت فيقول نعم فيدعى قومه فيقال لهم هل بلغكم فيقولون ما اتانا من نذير و ما اتانا من احد فيقال لنوح من يشهد لك فيقول محمد وامته ذلك قوله يعنى هذه الاية فيشهدون له بالبلاغ واشهد عليكم پس اب دریافت کیا جاتا ہے کہ ضمیر علیهم کا مرجع بھی اہل کتاب جو ایمان لے آویں گے اور اسلام میں داخل ہو کر ہمارے حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہو جاویں گے تو بالضرور ان کے شہید و گواہ بجز رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت عیسی کیونکر ہو سکتے ہیں حضرت عیسی کا غایت درجہ تو یہ ہے کہ اپنی امت کے شہید ہوں فرمایا اللہ تعالیٰ نے كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ کے پے اور اگر کہو کہ یہ منصب جو ہمارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ وہ بعد نزول حضرت عیسی کے حضرت عیسی کو مل جاوے گا۔ تو نعوذ باللہ لازم آتا ہے کہ ختم نبوت نہیں ہوا واللازم باطل فالملزوم مثله اور اگر کہو کہ مرجع ضمیر علیهم کا وہ اہل کتاب ہیں جن کا ذکر یہاں سے ایک کوس بھر کے فاصلہ پر ہوا ہے تو یہ استفسار ہے کہ اس قدر بعید مرجع کا ماننا کس کا مذہب ہے فرا کا یا سیبویہ کا ۔ بینوا توجروا۔ بحث نحوی بابت زمانه حال یہ جو بعض کتب نحو میں لکھا گیا ہے کہ زمانہ حال کا ایسا نہیں ہے کہ اس میں کوئی فعل واقع ہو سکے اور اسی بنا پر مولوی صاحب نے زمانہ استقبال کی دو قسمیں فرمائیں اول استقبال قریب و دوم استقبال بعید۔ اگر چہ مطلب ہمارا اسی سے حاصل ہو گیا کہ مولوی صاحب جس کو استقبال قریب کہتے ہیں ہم اس کو حال کہیں گے صرف ایک نزاع لفظی رہ گئی مگر علاوہ اس کے یہ گذارش ہے کہ یہ ایک تدقیق منتظمین کی ہے۔ ہم کو کیا ضرورت ہے کہ ایسی تدقیق جو بالکل خلاف عرف اہل عربیت کے ہے اس پر اڑ جاویں دیکھو مطول اور اس کے ہوامش میں لکھا ہے وهذا يعني الزمان الحال امر عرفى كما البقرة : ۱۴۴ ۲ المائدة : ۱۱۸