ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 239
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۳۹ الحق مباحثہ دہلی متصل سے یہ ثابت ہے کہ معنی آیت کے یہی ہیں جو مولوی صاحب نے کئے ہیں۔ پیشین گوئی کا تو ذکر ۱۰۹ ہی کیا ہے۔ مولانا شاہ ولی اللہ صاحب تو دیگر مطالب تفسیر یہ کی نسبت یہی تحریر فرماتے ہیں۔ پیش این فقیر محقق شده است که صحابه و تابعین بسیار بود که نزلت الآية في کذا و کذا می گفتند و غرض ایشان تصویر ما صدق آں آیت بود و ذکر بعض حوادث که آیت آن را بعموم خود شامل شده است خواه این قصه متقدم باشد یا متاخر اسرائیلی باشد یا جاہلی یا اسلامی تمام قیود آیت را گرفته باشد یا بعض آن را و الله اعلم از میں تحقیق دانسته شد که اجتهاد را دریں قسم دخلی هست و قصص متعدده را آنجا گنجائش ہست پس ہر کہ ایں نکتہ مستحضر دارد حل مختلفات سبب نزول بادنی عنایت ہے تو اں نمود ۔ انتہی ۔ ہاں مولوی صاحب کو صرف اتنا اختیار تھا کہ اپنے ان معنے مختار کوترجیح دیتے نہ یہ کہ ان کو قطعية الدلالت فرماتے اور نہ ایسا کلمہ کہتے کہ مصداق ہو۔ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ کا اس معنے کے ماعدا جتنے معنے تمام دنیا بھر کی تفسیروں میں لکھے ہیں سب غلط اور باطل ہیں اے مولوی صاحب اتق الله نام نیک رفتگان ضائع مکن تا بماند نام نیکت یادگار یہ قضیہ بھی تو مسلمہ مفسرین ہے کہ فمتى اختلف التابعون لم يكن بعض اقوالهم حجة علي بعض ۔ پھر مولوی صاحب کا تمام دنیا بھر کے مفسرین کو باطل اور غلطی پر قرار دینا اور اپنے معنی کو حجت قطعی گرداننا کیا یہی تقوی اور دیانت اور اظہار حق وصواب ہے؟ بینوا توجروا۔ علم زبان فارسی مولوی صاحب نے جو ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب کی طرف توجہ فرمائی تو بسبب غلبہ خیال نون ثقیلہ کے جو جو صیغے کہ فارسی میں واسطے مضارع کے آتے ہیں ان کو خالص استقبال کے واسطے اپنی طرف سے خلاف قواعد فرس قرار دے لیا۔ شاہ ولی اللہ صاحب کے الفاظ ترجمہ یہ ہیں ۔ پس البته متوجه گردانیم تر ابان قبله که خوشنود شوی والبته بسوزانیم آن را پس پرا گندہ سازیم آن رای والبته دلالت کنیم ایشان را برا ہہائے خود۔ والبتہ غالب شوم منو غالب شوند پیغمبران منوالبته زنده کنمیش بزندگانی پاک و دراریم ایشان را در زمره شائستگاں ۔ ايها الناظرين اطفال دبستان بھی اس قاعدہ کو خوب جانتے ہیں کہ علامت خالص استقبال کی خواہد ۔ خواہند ۔ خواہی ۔ خواہید ۔ خواہم ہے اور علامت خالص حال کی لفظ مے کا مضارع پر داخل ہونا ہے ۔ اور یہ الفاظ مندرجہ ا الكهف : ٦