ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 215

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۱۵ الحق مباحثہ دہلی آیت کو اس طرح پر زیروز بر کرنا پڑے گا۔ یا عیسی انی رافعک الی السماء و مطهرک من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة ثم منزلك الى الارض و متوفیک اب فرمائیے کیا اس تحریف پر کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل مل سکتی ہے۔ یہودی بھی تو ایسے ہی کام کرتے تھے کہ اپنی رائے سے اپنی تفسیروں میں بعض آیات کے معنے کرنے کے وقت بعض الفاظ کو مقدم اور بعض کو مؤخر کر دیتے تھے جنکی نسبت قرآن مجید میں یہ آیت موجود ہے کہ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِہ کے ان کی تحریف ہمیشہ لفظی نہیں تھی بلکہ معنوی بھی تھی ۔ سوایسی تحریفوں سے ہر یک مسلمان کو ڈرنا چاہئے ۔ اگر کسی حدیث صحیح میں ایسی تحریف کی اجازت ہے تو بسم اللہ وہ دکھلائیے۔ غرض آیت یا عیسی انی متوفیک میں اگر قرآن کریم کا عموم محاورہ ملحوظ رکھا جائے اور آیت کو تحریف سے بچایا جائے تو پھر موت کے بعد اور دوسرے معنے کیا نکل سکتے ہیں ۔ یہ بات بھی یادرکھنے کے لائق ہے کہ آیت میں رَافِعُكَ إِلَی وارد ہے رافعک إلى السماء وارد نہیں ۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ روح کوئی مکانی چیز نہیں ہے بلکہ اسکے تعلقات مجهول الكنہ ہوتے ہیں ۔ مرنے کے بعد ایک تعلق روح کا قبر کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور کشف قبور کے وقت ارباب مکاشفات پر وہ تعلق ظاہر ہوتا ہے کہ صاحب قبور اپنی اپنی قبروں میں بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلکہ ان سے صاحب کشف کے مخاطبات و مکالمات بھی واضح ہو جاتے ہیں ۔ یہ بات احادیث صحیحہ سے بھی بخوبی ثابت ہے۔ صلوۃ فی القبر کی حدیث مشہور ہے اور احادیث سے ثابت ہے کہ مردے جوتی کی آواز بھی سن لیتے ہیں اور السّلام علیکم کا جواب دیتے ہیں باوجود اسکے ایک تعلق ان کا آ ان کا آسمان سے بھی ہوتا ہے اور اپنے نفسی نقطہ کے مکان پرا اپنے نفسی نقطہ کے مکان پر ان کا تمثل مشاہدہ میں آتا ہے اور ان کا رفع مختلف درجات سے ہوتا ہے بعض پہلے آسمان تک رہ جاتے ہیں بعض دوسرے تک بعض تیسرے تک لیکن موت کے بعد رفع روح بھی ضرور ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث صحیح اور آیت لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ا صریح اشارہ کر رہی ہے لیکن ان کا آسمان پر ہونا یا قبروں میں ہونا ایک مجهول الكنه امر ہے۔ عنصری خاکی جسم تو ان کے ساتھ نہیں ہوتا کہ خاکی اجسام کی طرح ایک خاص اور حیز اور مکان میں ان کا پایا جانا ضروری ہو۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے رَافِعُكَ إِلَيَّ فرمایا رَافِعُكَ إِلَى السَّمَاءِ نہیں کہا کیونکہ جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں وہ خاص طور پر ل المائدة : ۲۱۴ الاعراف: ۴۱ ۸۵