ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 203

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۰۳ الحق مباحثہ دہلی قوله ہم نے تفاسیر معتبرہ کے ذریعہ سے اس کی اسناد پیش کر دی ہیں۔ اقول سند میں جو جرح ہے ﴿۷۳) وہ میں نے اوپر بیان کردی فتذكر قوله بھلا اگر آپ حق پر ہیں تو تیرہ سو برس کی تفسیروں میں سے کوئی ایسی تفسیر تو پیش کیجئے جو ان معنوں کی صحت پر معترض ہو۔ اقول تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن کثیر اس معنی کی صحت پر معترض ہیں ۔ قولہ الہامی معنے جو میں نے کئے ہیں وہ در حقیقت ان معنوں کے معارض نہیں۔ اقول محض غلط ہے کیونکہ الہامی معنے کا مدار اس پر ہے کہ ضمیر موتہ کی راجع طرف عیسی علم کے ہے اور معنی مذکور کا مدار اس پر ہے کہ ضمیر موتہ کی راجع طرف کتابی کے ہے پس سخت تعارض و بین تخالف موجود ہے۔ مجھ کو سخت تعجب ہے آپ کی دیانت سے کہ آپ باوجود یکہ ضمیر موتہ کا مرجع عیسی ہونا اپنی کتب میں تسلیم کر چکے ہیں اور آیت وان من اهل الكتاب وصــريــحـة الدلالة وفات عیسی پر کہتے ہیں پھر اس اقراری حق سے کیوں اعراض کرتے ہیں اور جَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ لے کے وعید سے نہیں ڈرتے ۔ قولہ کیونکہ ہمارے نزدیک حال کسی ٹھہر نے الے زمانہ کا نام نہیں ہے۔ اقول یہ امر مسلم ہے بے م ہے بے شک زمانہ نام مقدار غیر قار کا ہے اور حال ایک فرد ہے زمانہ کا اور حد حقیقی حال کے باعتبار عرف کے یہی ہے کہ تکلم فعل کے پہلے کا زمانہ تو ور اور تکلم فعل - ل کے مبدا سے منتہی تک زمانہ حال ہے اس بنا ا ہےاس ماضی ہے اور تکلم فعل کے بعد کا زمانہ مستقبل ہے اور پر ظاہر ہے کہ استقبال قریب ہرگز حال نہیں ہو سکتا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قول کے تکلم کا زمانہ بعد ہے زمانہ تکلم فَلَنُوَلِيَنَّک سے پس اس کے استقبال ہونے میں کیا شک ہے۔ قوله جب آپ خود مستقبل قریب کے قائل ہو گئے اسی طرح وہ بھی قائل ہیں۔ اقول فرق نہ کرنا در میان مستقبل قریب و حال کے محصلین سے بعید ہے جیسا کہ ماہر علم نحو پر بلکہ قاصر پر بھی مخفی نہیں ہے۔ قولہ یہ تو ہم نے تسلیم کیا کہ وعدہ ہے مگر یہ کہاں سے ثابت ہے کہ وعدہ آنے والے لوگوں کیلئے خاص ہے۔ اقول یہ کس نے کہا کہ یہ وعدہ آنے والے لوگوں کیلئے ہی خاص ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اس کا ایفاء زمانہ آئندہ ہی میں ہو سکتا ہے نہ حال میں اور اس بات میں جو آپ نے طول کیا ہے اس کو اصل مطلب سے کچھ علاقہ نہیں اور ہم کو اس سنت اللہ سے ہرگز انکار نہیں کہ مجاہدہ کرنے پر ضرور ہدایت مرتب ہوتی ہے صرف بحث اس میں ہے کہ یہ سنت اللہ ان آیات وعد ود عید سے ثابت نہیں ہے بلکہ اس کیلئے دوسری آیات دلیل ہیں۔ قولہ اب دیکھئے کہ ان آیات سے بھی آپ کا دعویٰ قطعية الدلالت ہونا آیت ليؤمنن به کاکس قدر باطل ثابت ہوتا ہے۔ اقول آیات منافی قطعية الدلالت ہونے آیت ليؤمنن کے نہیں بلکہ آیت ليؤمنن آیات مذکورہ کے مخصص واقع ہوئی ہے۔ قولہ حلیم وہ ہے جو یبلغ الحلم کا مصداق ہو۔ اقول یہ حصر غیر مسلم ہے کیونکہ حلیم قرآن مجید میں صفت غلام کی آئی ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فَبَشِّرْتُهُ بِخُلْمٍ حَلِيمٍ ، اور غلام کے معنے کودک صغیر کے ہیں کما فی الصراح پس محتمل ہے کہ حلیم اس مقام پر ماخوذ فلم سے النمل : ۱۵ ۲ الصفت: ۱۰۲