ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 598

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات — Page 184

روحانی خزائن جلد ۴ الله الحق مباحثہ دہلی ۵۴ ملک عرب میں جا کر مشاہدہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ کس قدر پہلی زبانوں سے اب عربی زبان میں فرق آ گیا ہے یہاں تک کہ اقعد کی جگہ اگر بولا جاتا ہے ایسا ہی کئی محاورات بدل گئے ہیں ۔ اب معلوم نہیں کہ جس زمانہ میں صرف ونحو کے قواعد مرتب کرنے کیلئے توجہ کی گئی وہ زمانہ کس قدر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے فرق کر گیا تھا اور کیا کچھ محاورات میں تبدل واقعہ ہو گیا تھا۔ نحوی اور صرفی اس بات کے بھی تو قائل ہیں کہ با وجود تر تیب قواعد کے ایک حصہ کثیرہ خلاف قیاس الفاظ اور خلاف قیاس ترتیب الفاظ کا بھی ہے۔ جس کی حد بھی غیر معلوم ہے جو ابھی تک کسی قاعدہ کے نیچے نہیں آسکا۔ غرض یہ صرف اور نحو جو ہمارے ہاتھ میں ہے صرف بچوں کو ایک موٹی قواعد سکھلانے کیلئے ہے اس کو ایک رہبر معصوم تصور کر لی م تصور کر لینا اور خطا اور غلطی سے پاک سمجھنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو بجز اللہ اور رسول کے کسی اور کو بھی معصوم قرار دیتے ہیں۔ اللہ جل شانہ نے ہمیں یہ فرمایا ہے فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ لا یعنی اگر تم کسی بات میں تنازع کرو تو اس امر کا فیصلہ اللہ اور رسول کی طرف رد کرو۔ اور صرف اللہ اور رسول کو حکم بناؤ نہ کسی اور کو ۔ اب یہ کیونکر ہو سکے کہ ناقص العلم صرفیوں اور نحویوں کو اللہ اور رسول کو چھوڑ کر اپنا حکم بنایا جائے ۔ کیا اس پر کوئی دلیل ہے۔ تعجب کہ متبع سنت کہلا کر کسی اور کی طرف بجز سر چشمہ طیبہ مطہرہ اللہ رسول کے رجوع کریں۔ آپ کو یادر ہے کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قواعد موجودہ صرف و نحو غلطی سے پاک ہیں یا بہمہ رہ تم و مکمل ہیں ۔ اگر آپ کا یہ مذہب ہے تو اس مذہب کی تائب مذہب کی تائید میں تو کوئی آیت قرآن کریم پیش کیجئے یا کوئی حدیث صحیح دکھلائیے ورنہ آپ کی یہ بحث بے مصرف فضول خیال ہے حجت شرعی نہیں میں ثابت کرتا ہوں کہ اگر فی الحقیقت نحویوں کا یہی مذہب ہے کہ نون ثقیلہ سے مضارع خالص مستقبل کے معنوں میں آ جاتا ہے اور کبھی اور کسی مقام اور کسی صورت میں اس کے برخلاف نہیں ہوتا تو انہوں نے سخت غلطی کی ہے۔ قرآن کریم ان کی غلطی ظاہر کر رہا ہے اور ا کا بر صحابہ اس پر شہادت دے رہے وجوه م و پ حدیث ہیں ۔ حضرت انسانوں کی اور کوششوں کی طرح نحویوں کی کوششیں بھی خطا سے خالی نہیں آر اور قرآن کو چھوڑ کر کسی جھگڑے میں پڑ گئے ۔ اور اس خیال خام کی نحوست سے آپ کو تمام اکابر کی نسبت بدظنی کرنی پڑی کہ وہ سب تفسیر آیت ليؤمنن بہ میں غلطی کرتے رہے ابھی میں انشاء اللہ القدیر آپ پر ثابت کروں گا کہ آیت لیؤمنن بہ آپ کے معنوں پر اس صورت میں قطعية الدلالت ٹھہر سکتی ہے کہ ان سب بزرگوں کے قطعية الجهالت ہونے پر فتوی لکھا جائے اور نعوذ باللہ نبی معصوم ا النساء: ٦٠